بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مکہ اتحاد کا حوثی حملوں میں اضافے کے باعث ریاض میں ہنگامی اجلاس طلب

[post-views]
[post-views]

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے، سہ فریقی دفاعی معاہدہ سیاسی اور عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب گامزن

اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی آئندہ ہفتے ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور وسیع تر علاقائی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو بتایا کہ اجلاس میں زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، بالخصوص سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں اور مدینہ منورہ میں بجلی کی تنصیب پر حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

یہ اجلاس 7 اگست کو طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اتحاد کا عسکری تعاون مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ

ہنگامی اجلاس سے قبل تینوں ممالک نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی مشاورت کی تھی۔

اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 24 ستمبر کو ملاقات کرکے معاہدے پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا اور تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کے فوری مشاورتی اجلاس پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں 25 ستمبر کو ریاض میں عسکری قیادت کا اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش خطرات، خفیہ معلومات کے تبادلے، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے مزید انضمام پر غور کیا گیا۔

تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع کے عزم اور مکہ معاہدے کو عملی سلامتی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

حالیہ سفارتی اور عسکری سرگرمیوں میں سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں کے بعد تیزی آئی ہے جن کی ذمہ داری سعودی حکام نے یمن کے حوثیوں پر عائد کی ہے۔ ان میں مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کی تنصیب پر حملہ بھی شامل ہے۔

پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ حوثیوں نے مدینہ منورہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

ایران حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کا حامی

اسحاق ڈار نے علاقائی بحران کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

ڈار کے مطابق عباس عراقچی نے عندیہ دیا کہ ایران حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے خود کو فاصلے پر رکھ رہا ہے اور ان گروہوں کے خلاف عسکری کارروائی کے بجائے سیاسی رابطے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے بحران کے حل کے لیے تہران کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اب ایک دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ بات چیت ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ تجویز نہیں تھی بلکہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان خیالات کا تبادلہ تھا۔ عسکری کارروائی کے متبادل کے طور پر سیاسی رابطے کے امکان پر اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں غور کیے جانے کی توقع ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک حساس سفارتی توازن کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف اسے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے پورے کرنا ہیں اور دوسری جانب ہمسایہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہوئے علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوشش بھی کرنی ہے۔

ریاض میں مستقل سیکریٹریٹ کا قیام

مکہ اتحاد اپنے مستقل ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل پر بھی کام کر رہا ہے۔

اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان نے شرکت کی۔

اجلاس میں سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل پاکستان سے مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا۔

بعد ازاں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا، جبکہ سیکریٹریٹ کے لیے ریاض کا انتخاب کیا گیا۔

معاہدے میں دفاعی صنعتوں میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار بھی شامل ہے۔

چھ سے زائد ممالک کی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی

اسحاق ڈار نے بتایا کہ چھ سے زائد ممالک نے مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

تاہم ان کے مطابق اتحاد میں توسیع پر اس وقت غور کیا جائے گا جب اس کا سیکریٹریٹ اور دیگر ادارہ جاتی انتظامات مکمل طور پر فعال ہوجائیں گے۔

ڈار نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں۔ اتحاد کے بنیادی اصولوں کو قبول کرنے والے دیگر ممالک کے لیے رکنیت کا راستہ کھلا ہے، تاہم کسی نئے ملک کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مشترکہ طور پر کریں گے۔

افغانستان اور علاقائی سلامتی

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات کو بھی اہم علاقائی سلامتی کے مسئلے کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کا کریڈٹ بھی دیا۔

پاکستان کے وسیع تر سفارتی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ اسلام آباد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ ان کے مطابق کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ قرارداد 12 سال میں پہلی مرتبہ متفقہ طور پر منظور ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 47 سال میں پہلی مرتبہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جہاں 21 گھنٹوں پر مشتمل چھ نشستیں ہوئیں اور یہ عمل 18 جون کو ایک معاہدے پر دستخط تک پہنچا۔

توانائی کا بحران اور اہم آبی گزرگاہیں

اسحاق ڈار نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے گرد عدم استحکام کے اقتصادی اثرات پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے عالمی رسدی زنجیروں کو متاثر کیا اور پاکستان میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا باعث بنی۔

انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ اور عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے باوجود حکومت نے ایندھن میں ریلیف کی ایک اسکیم متعارف کرائی، جس سے موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لاکھوں صارفین مستفید ہو رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر صورتحال پر ڈار نے کہا کہ طویل جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق بڑی عالمی جنگیں بھی بالآخر مذاکرات اور ادارہ سازی کے ذریعے ہی اختتام پذیر ہوئیں۔

کشمیر اور پانی سے متعلق پاکستان کے مؤقف کا اعادہ

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لینے چاہییں اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہییں۔

ڈار نے پہلگام واقعے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کرکے بین الاقوامی سطح پر بھارتی الزامات کا جواب دیا۔ انہوں نے بعد میں ہونے والی عسکری کشیدگی سے متعلق بھارتی دعوؤں کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ نئی دہلی نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

سندھ طاس معاہدے پر ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق ملک کی سول اور عسکری قیادت پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

پاکستان کی کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں میں توسیع

اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے غزہ، افغانستان، کشمیر اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے متعلق متعدد سفارتی اجلاسوں میں شرکت کی۔

ان میں مصر کی میزبانی میں غزہ سے متعلق آٹھ رکنی عرب اسلامی گروپ کا اجلاس، پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر پر مشتمل چار ملکی علاقائی اجلاس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ شامل تھی۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے جموں و کشمیر اور افغانستان سے متعلق رابطہ گروپوں کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی، جن کے باقاعدگی سے انعقاد کے لیے پاکستان نے کوششیں کی ہیں۔

آئندہ ہفتے ریاض میں ہونے والا ہنگامی اجلاس مکہ اتحاد کے لیے ایک اہم مرحلے پر منعقد ہوگا، جہاں تینوں بانی ممالک کو فوری سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے نئے مشترکہ دفاعی نظام کے سیاسی، عسکری اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]