وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کے اس نوٹیفکیشن کی توثیق کردی ہے، جس کے تحت احمدیہ برادری کے مذہب سے متعلق ایک کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جسٹس عامر فاروق کے تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، تاہم یہ حق قانون، امنِ عامہ اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پابندیوں سے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت حاصل مذہبی آزادی متاثر ہوئی۔ عدالت کے مطابق اس دعوے کا جائزہ لینے کے لیے ضابطۂ فوجداری اور متعلقہ آرڈیننس کے تحت عائد پابندیوں کی قانونی بنیاد اور جواز کا تفصیلی جائزہ ضروری تھا۔
تاہم وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے متعلقہ قوانین کے تحت دستیاب قانونی راستے اختیار نہ کرنے کے باعث ضروری مواد عدالت کے سامنے موجود نہیں تھا۔ ایسے میں محض مفروضوں کی بنیاد پر آئینی سوال کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کے بارے میں عمومی دلائل تو دیے، لیکن ممنوعہ مواد اور اس کے قانونی اثرات کو مناسب طور پر عدالت کے سامنے واضح نہیں کیا۔
عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ مقدمے کے حقائق اور حالات میں درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی۔
فیصلے میں اس مؤقف کو بھی مسترد کیا گیا کہ پابندیوں کو محض انتظامیہ کا غیر قانونی اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ عدالت کے مطابق کسی حکومتی اقدام کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دینے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اسے اختیار کس قانونی ذریعے سے حاصل ہوا، خواہ وہ قانون، تفویض کردہ قانون سازی یا کوئی دوسرا قانونی اختیار ہو۔
عدالت نے خالص انتظامی صوابدید کے تحت کیے گئے اقدامات اور قانونی اختیار کے تحت کیے گئے اقدامات کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ بحث اقدامات دوسری نوعیت میں آتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے آرٹیکل 4 کی آئینی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو ہر فرد کو قانون کے مطابق سلوک کیے جانے کا حق دیتا ہے۔ عدالت نے اسے بنیادی حقوق کے وسیع تر آئینی نظام، بشمول مذہبی آزادی، کی بنیادی ضمانت قرار دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے سوالات کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھنے والا عدالتی فورم بنیادی حقوق سے متعلق معاملات بھی طے کرسکتا ہے۔ تاہم درخواست گزاروں نے پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن اور اقدامات کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 99-بی اور متعلقہ آرڈیننس کی دفعہ 20 کے تحت دستیاب قانونی طریقۂ کار کے ذریعے مقررہ مدت میں چیلنج نہیں کیا۔
اس کے بجائے درخواست گزاروں نے خاصی تاخیر کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت کے مطابق اس تاخیر کی کوئی قابلِ قبول وجہ پیش نہیں کی گئی۔ چنانچہ وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے مذکورہ مواد کی اشاعت پر عائد پابندی کو برقرار رکھا۔








