پاکستان کا ترقیاتی بحران دراصل حکمرانی کا بحران ہے

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے ترقیاتی اشاریے صرف معاشی کمزوری نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بے پناہ انسانی اور قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان انسانی ترقی کے اشاریے میں 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے، جبکہ لاکھوں افراد ناقص تعلیم، غذائی قلت، غربت اور ناکافی صحت کی سہولیات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں ادارے موجود ہیں یا نہیں۔ تقریباً ہر بڑے مسئلے کے لیے وزارتیں، محکمے، بجٹ، پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے: یہ ادارے بہتر نتائج کیوں نہیں دے سکے؟

حکمرانی کی اصل پیمائش نتائج سے ہونی چاہیے۔ تعلیم کا نتیجہ علم اور تربیت، صحت کے نظام کا نتیجہ بہتر زندگی، معاشی پالیسی کا نتیجہ روزگار اور معاشی مواقع، جبکہ سرکاری اخراجات کا نتیجہ انسانی ترقی ہونا چاہیے۔

پاکستان ان مسائل کو صرف مزید پیسہ خرچ کرکے یا نئے منصوبوں کے اعلانات سے حل نہیں کرسکتا۔ ملک کو پیشہ ور اداروں، تخصص پر مبنی قیادت، مؤثر احتساب، مضبوط مقامی حکومتوں اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے۔

پاکستان کئی دہائیوں سے اپنی صلاحیتوں کی بات کرتا آیا ہے۔ اب ضرورت ایک ایسی ریاست کی ہے جو ان صلاحیتوں کو حقیقی انسانی ترقی میں تبدیل کرسکے۔

حکمرانی کا اصل معیار یہ نہیں کہ ریاست کتنا انتظام کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کی زندگی کتنی بہتر بناتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]