فرار، بیدار اورسردار

[post-views]
[post-views]



جدید دور کا انسان تما م تر سہولیات کے باوجود زندگی سے فرار چاہتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت فقط جسمانی طور پر زندہ رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انسان اپنی روحانی ضروریات پوری کیے بغیر کبھی پر سکون نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالی ٰ کے فرمان کا مفہوم ہے ! ” دلوں کا اطمینان فقط اللہ کے ذکر میں ہے”۔ رمضان میں اللہ کاذکر کرنے کا اجر بےپناہ ہے۔رمضان بیداری کامہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ رمضان کے مہینے میں شب بیداری کا بہت اہتمام کرتے تھے۔شبِ قدر رمضان کے آخری عشرےمیں ہوتی ہے۔ شب قدر اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔رمضان میں انسانوں پر اللہ تعالی کی نعمتوں کا نزول کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔قلب کا بیدار ہونابھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ شاعر نے بجا کہا ؏
دل مردہ دل نہیں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com


انسان کا دل بیدار ہو تو وہ ہستی بہت یاد آتی ہے جس کی شہادت کی خبر پیغمبر خداﷺ پہلے ہی دے چکے تھے ۔حضرت علی ؑ کی شہادت ماہ رمضان میں ہوئی۔ حضرت علی ؓ نوجوان مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ عمر بھر اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کے ساتھ رہے ، آپ نے سب سے پہلے کہا ” میری عمر تھوڑی ہے لیکن میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق رسول اللہ کی مدد کروں گا”۔ ہم حضرت علی ؓ سے محبت مسلمان کے ایمان کا اہم جز ہے۔۔ حضرت علیؑ مسلمانوں کےسردار ہیں۔ان کی زوجہ جنت کی خواتین کی سردار ہیں۔ ان کے فرزند جنت کے نوجوانان کےسردار ہیں۔ حضرت علی اللہ کے نبی ﷺ کے چچا ذاد بھائی ہیں۔مواخات مدینہ میں حضرت محمد ﷺنےحضرت علی کو کسی کا بھائی نہیں بنایا، اپنا بھائی بنایا۔ پیغمبر نے فرمایا “حضرت علی ؓ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون ؑ کی حضرت موسی ؑ کے ساتھ تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں “۔ حضرت علی نبی پاک ﷺ کے داماد ہیں ۔ حضور ﷺ حضرت علی اور اولاد علی ؑ سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔ ارشاد نبویﷺ کامفہوم ہے: ” مومن حضرت علی سے محبت کرے گا اور منافق حضرت علی ؓ سے بغض رکھے گا”۔ ایک اور موقع پر فرمایا ” فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے۔جس نے انہیں ناراض کیا ، اس نے مجھے ناراض کیا”۔غدیرخم میں فرمائے گئے فرمان پاک کا مفہوم ہے: ’’میں تم میں وہ کچھ چھوڑ کے جا رہا ہوں اگر تم اُسے تھامے رکھو گے تو میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے، وہ دو انتہائی گراں مایہ ہیں۔ ان میں سےایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ اللہ کی کتاب جو رسی کی شکل میں آسمان سے زمین تک پھیلا دی گئی ہے اور میرے اہل بیت۔ اوربے شک وہ دونوں جدا نہیں ہوں گے حتی کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے”۔ ایک اور موقع پر فرمایا ” ’’بے شک میں ان دونوں (حسن و حسین رضی اللّٰہ عنہما) سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا اے اللہ! تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان دونوں سے محبت کرے”۔ ارشاد نبوی ﷺ کا مفہوم ہے ” انتہائی بدبخت شخص حضرت علی ؓ کو شہید کرے گا”۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر عرفہ کے دن رسول اللہﷺکو دیکھا، آپﷺ اپنی اونٹنی “قصوا” پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: “اے لوگو! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے جسے تم پکڑ لو گے تو گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے اللہ کی کتاب اور میرے گھر والے، میرے اہل بیت”۔ ابو سعید خدری‌رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کوئی اہل بیت سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اُسے آگ میں داخل کرے گا “۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : “اگر کوئی شخص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو لیکن مرتے وقت دل میں اہل بیت سے بغض ہوا، تو جہنم میں جائے گا”۔ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: ” جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کے دوست ہیں۔ اے اللّٰه ،جو اسے دوست رکھے اسے تو بھی دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھى اس سے دشمنی رکھ”۔ آپ ﷺنے فرمایا ” جس نے علی رضی اللہ عنہ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی”۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا” جس نے علی رضی اللہ عنہ کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی”۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں”(ایک واقعہ کی وجہ سے) چار آدمیوں نے طے کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی اللہ عنہ کی شکائت کریں گے”۔چنانچہ ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور ا س نے عرض کیا” اللہ کے رسول ! کیا آپ کومعلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی توآپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا۔ پھر چوتھا شخص کھڑا ہواتو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپﷺ کے چہرے سے ناراضی ظاہرتھی۔ آپ نے فرمایا ” تم لوگ علی( رضی اللہ تعالی عنہ) کے سلسلہ میں کیاچاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیاچاہتے ہو؟ وہ دوست ہیں ہراس مومن کاجو میرے بعدآئے گا”۔آج امت مسلمہ جن حالات سے دوچار ہے، ہمیں سنجیدگی سے اہل بیت کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسلامی ممالک میں قتل و غارت گری کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ نوجوان ذہنی تنہائی کا شکار ہیں۔ رہنمائی کیلئے رول ماڈل نہیں ملتا ۔ مسلم دنیا قحط الرجال کا شکار ہے۔نوجوانوں کو چاہیے وہ حضرت علی ؓ ، حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی سیرت کو سامنے رکھیں۔ خواتین بھی طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں ۔کبھی رہنمائی کے لیے مغرب کی طرف دیکھ تی ہے تو کبھی کسی اور طرف نظر دوڑاتی ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری خواتین حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی سیرت سے آگاہ ہوں۔ ہمارے ہاں خاندانی نظام کو جو خطرات لاحق ہیں ان کے تدارک کا واحد راستہ حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ امام شافعی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه فرماتے ہیں ” اے اہل بیتِ کرام!تمہاری محبت اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرض قرار دی ہے۔ تمہیں یہ فخر کافی ہے جو تم پر درود نہ بھیجے ، اس کی نماز نہیں ہوتی” زندگی سے فرار مسائل کا حل نہیں۔قلب ِبیدار ہی انسان کا ہتھیار ہے ۔آئیے! قلب بیدار کریں، اپنے سرداروں سے پیار کریں،اہل بیت کی اتباع میں زندگی نثار کریں۔ شیخ سعدی نے فرمایا:-
؎ محمد گل است و علی بوئے گل
بود فاطمہ اندر آں برگ گل
چو عطرش بر آمد حسین و حسن
معطر شد از وے زمین و زمن
حضرت محمد (ﷺ) پھول ہیں اور علی (کرم اللہ وجہہ الکریم) اس پھول کی خوشبو ۔جناب سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اس پھول کی پتی ہیں ۔حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت سخی حسین علیہ السلام بمثل عطر ہیں جو اس پھول سے برآمد ہوا اور انہی کی برکت اور خوشبو سے زمین و زماں معطر ہوئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos