بیرسٹر نوید قاضی
پاکستان نے اس ہفتے کے آخر میں اپنی سفارتی توانائی کا بڑا حصہ اس مقصد پر لگایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جا سکے۔ کئی ہفتوں تک اسلام آباد نے خود کو ایک ایسے اہم پل کے طور پر پیش کیا جو دونوں طاقتوں کے درمیان رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ اعلیٰ سطح پر سفارتی سرگرمیاں کی گئیں، طویل ملاقاتیں ہوئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے وزن سے بڑھ کر کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور دفاعی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود اس کوشش کی قیادت کی، تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ پاکستان وہ کردار ادا کر سکتا ہے جو ماضی میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے کے آخر میں صورتحال بدل گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا منصوبہ منسوخ کر دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں منعقد نہیں ہو سکے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آخری لمحے تک کی سفارتی کوششوں کے باوجود یہ اہم مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئے۔ اسلام آباد کے لیے یہ خبر ایک خاموش مگر واضح اشارہ تھی کہ اس کا کردار، کم از کم اس وقت، محدود ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندوں کے مجوزہ دورے بھی روک دیے۔ ان کے مطابق ایران نے کچھ پیش رفت ضرور دکھائی، لیکن یہ امریکا کی توقعات کے مطابق نہیں تھی۔ واشنگٹن مزید رعایتیں چاہتا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی، ایران کا جوہری پروگرام بھی اپنی جگہ موجود ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں ایک مختصر ملاقات میں حل نہیں کیا جا سکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تعطل کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسی ہفتے کے دوران دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے ایک نیا تجویز نامہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ پسِ پردہ رابطے ابھی بھی جاری ہیں، لیکن اصل فیصلہ کن اختیار واشنگٹن اور تہران کے پاس ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازعہ فوری طور پر حل ہونا ممکن نہیں۔ سابق امریکی انتظامیہ کے دوران ایران سے جوہری معاہدے میں تقریباً بیس ماہ لگے تھے، اور اس وقت حالات نسبتاً بہتر تھے۔ آج کی صورتحال میں چند ہفتوں میں کسی بڑے نتیجے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک سہولت کار کے طور پر جگہ اور رابطے فراہم کر سکتا ہے، لیکن وہ فریقین کو کسی معاہدے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اور طویل سیاسی دشمنی موجود ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کی کوششوں سے امید پیدا ہوئی تھی۔ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، اور اعلیٰ سطحی سفارتی دورے بھی کیے گئے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پیش رفت سست پڑتی گئی، اور آخرکار یہ عمل رک گیا۔
اسلام آباد میں بھی اس کا اثر واضح نظر آیا، جہاں سخت سیکیورٹی اقدامات بتدریج ختم کیے گئے، تعلیمی ادارے معمول پر آئے اور بند سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ سفارتی سرگرمیوں کا عارضی دور اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک کامیاب ثالث وہ ہوتا ہے جس کے ذریعے امن قائم ہو جائے، لیکن ناکامی کی صورت میں وہ صرف ایک عام ریاست رہ جاتی ہے۔ پاکستان کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں، کیونکہ پسِ پردہ رابطے موجود ہیں اور فریقین مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بڑے طاقتور ممالک کے درمیان تنازعات کا حل صرف سفارتی کوششوں سے فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
اصل نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ واشنگٹن اور تہران کب اور کس حد تک ایک ہی وقت میں کسی مشترکہ حل پر آمادہ ہوتے ہیں۔ فی الحال ایسا کوئی لمحہ سامنے نہیں آیا۔









