پہلگام کے ایک سال بعد: بھارت کے جنگی نعروں نے امن کی آواز دبا دی

[post-views]
[post-views]

پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جہاں ایک دہشت گرد حملے میں 26 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس سانحے پر عالمی برادری نے افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان نے بھی فوری طور پر ہمدردی کا پیغام دیا۔ تاہم اس واقعے کے بعد بھارت نے انصاف کے روایتی اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی راستہ اختیار کرنے کے بجائے الزام تراشی، سخت بیانیے اور کشیدگی بڑھانے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ نتیجتاً ایک سال گزرنے کے باوجود جنوبی ایشیا نہ زیادہ محفوظ ہوا ہے، نہ زیادہ مستحکم، اور نہ ہی امن کے قریب پہنچ سکا ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم اور بنیادی سوال آج بھی وہی ہے جو ابتدا میں تھا: کیا بھارت نے پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس، قابلِ تصدیق اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شواہد پیش کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ اگر بھارت کے پاس واقعی شواہد موجود ہیں تو ایک آزاد اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیق ہونی چاہیے تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔ مگر بھارت نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ سفارتی اور قانونی طور پر دیکھا جائے تو کسی بھی ریاست کا شفاف تحقیقات سے انکار اس کے دعووں پر سوالیہ نشان ضرور کھڑا کرتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات نے بھی اس موقع پر یہ مؤقف دہرایا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے شواہد پیش کرنے کے بجائے ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دیا، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنا تھا۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر واقعی انصاف مطلوب ہوتا تو غیر جانبدار تحقیقات کو روکا نہ جاتا۔

اس صورتحال نے خطے میں ایک نیا تناؤ پیدا کیا، جس کے بعد بھارت نے عسکری ردعمل کی طرف قدم بڑھایا۔ بعد ازاں ایک محدود فوجی کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جس کے دوران پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفاعی حکمت عملی اختیار کی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس مختصر کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ یا بڑی فوجی جھڑپ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی امن پر پڑتے ہیں۔

اسی دوران بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے کے کردار پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔ بہت سے ٹی وی چینلز نے صحافتی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر جذباتی، جارحانہ اور جنگی ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ تحقیق، سوال اور توازن کے بجائے ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دیا گیا جس میں الزام تراشی اور اشتعال انگیزی نمایاں تھی۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف عوامی رائے کو متاثر کیا بلکہ سفارتی ماحول کو بھی مزید کشیدہ بنا دیا۔ صحافت کا بنیادی مقصد حقیقت کی تلاش ہوتا ہے، لیکن جب میڈیا ادارے اس کے بجائے ریاستی بیانیے کے غیر مشروط ترجمان بن جائیں تو اس کے نتائج معاشروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اس پورے عرصے میں نسبتاً محتاط اور سفارتی رویہ اپنایا گیا۔ اسلام آباد نے بارہا مذاکرات، بات چیت اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال یا دباؤ سے نہیں بلکہ مستقل سفارت کاری، اعتماد سازی اور مسائل کے سیاسی حل سے ممکن ہے۔ کشمیر کا دیرینہ تنازع، پانی کی تقسیم کے مسائل، سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات جیسے امور ایسے ہیں جن کا حل جنگ یا محض الزام تراشی سے ممکن نہیں۔ یہ تمام معاملات سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات کے متقاضی ہیں۔

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، یورپ میں جاری جنگی صورتحال، اور عالمی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی ثالثی صلاحیت نے بین الاقوامی نظام کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں ایک اور بڑی کشیدگی کا اضافہ عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

پہلگام واقعے کے متاثرین یقیناً انصاف کے مستحق ہیں، لیکن یہ انصاف صرف سچائی، شفاف تحقیقات اور غیر جانبدار عمل سے ہی ممکن ہے۔ کسی بھی سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ الزامات نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے، اور اگر واقعی انصاف مطلوب ہے تو بین الاقوامی سطح پر آزاد تحقیق ہی واحد قابلِ اعتماد راستہ ہے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود خطے کی صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب تک بھارت الزام اور بیانیے کی سیاست کے بجائے حقیقت، شواہد اور مکالمے کی طرف نہیں آتا، جنوبی ایشیا بداعتمادی اور کشیدگی کے اسی دائرے میں گھومتا رہے گا۔ امن اب بھی ممکن ہے، لیکن اس کے لیے سب سے پہلے سچائی کو تسلیم کرنا اور بات چیت کی طرف واپس آنا ضروری ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos