بھوک اور زرعی ملک کا تضاد: پاکستان کی ناکام حکمرانی کی کہانی

[post-views]
[post-views]

ڈاکٹر شبانہ صفدر خان

پاکستان کے بارے میں ایک گہرا تضاد یہ ہے کہ یہ ملک دنیا کی انتہائی زرخیز زرعی زمینوں میں شمار ہونے کے باوجود اپنے عوام کو مناسب خوراک فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کوئی صحرائی ملک نہیں، نہ ہی کوئی ایسا چھوٹا جزیرہ ہے جس کے پاس قدرتی وسائل موجود نہ ہوں۔ اس کے پاس وسیع دریائی نظام، زرخیز میدان اور ہزاروں سال پرانی زرعی روایت موجود ہے۔ اس کے باوجود 2026 میں اقوامِ متحدہ نے اسے دنیا کے دس بدترین غذائی بحرانوں والے ممالک میں شامل کیا ہے۔ یہ تضاد اتفاقی نہیں بلکہ مسلسل غلط فیصلوں اور مؤثر پالیسیوں کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کی عالمی رپورٹ برائے غذائی بحران ایک سائنسی پیمائش کے نظام کے تحت صورتحال کو جانچتی ہے، جس میں آبادی کو خوراک کی کمی کی شدت کے مطابق درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 2025 میں پاکستان کے اعداد و شمار تشویشناک تھے، جہاں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔ ان میں سے 93 لاکھ افراد کو “بحران” اور 17 لاکھ کو “ہنگامی صورتحال” کے درجے میں رکھا گیا۔ یہ اعداد و شمار محض شماریات نہیں بلکہ ایسے خاندانوں کی عکاسی کرتے ہیں جو کھانے کے اوقات کم کرتے ہیں، بچے بھوکے سوتے ہیں اور مائیں اپنی خوراک بچوں کیلئے قربان کرتی ہیں۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میں یہ صورتحال غیر معمولی ہونی چاہیے تھی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کو ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، فصلیں تباہ ہوئیں، انفراسٹرکچر برباد ہوا اور دیہی آبادی کی معاشی بنیادیں کمزور ہو گئیں۔ ایک ہی قدرتی آفت کئی علاقوں میں سال بھر کی محنت کو ختم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں غربت اور بھوک کا سلسلہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

تاہم صرف ماحولیاتی عوامل اس بحران کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ گورننس کا ہے۔ صحت کے اعداد و شمار بھی صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، جہاں تقریباً 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، زچگی کے دوران اموات کی شرح بلند ہے، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں تقریباً 40 فیصد نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ صرف غذائی کمی نہیں بلکہ طویل مدتی انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔

ایک اور اہم تضاد یہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان، جو پاکستان کی زرعی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں، وہی سب سے زیادہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جو ملک کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں، مگر خود اسی خوراک تک رسائی سے محروم رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ جغرافیہ کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ناکامی کا ہے، جس میں زمین کی تقسیم، مارکیٹ کا نظام، ترسیل کا ڈھانچہ اور پالیسیوں کا نفاذ سب شامل ہیں۔

2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی مدد کیلئے تقریباً 600 ملین ڈالر فراہم کیے، لیکن آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق اس رقم کے استعمال میں شفافیت کی شدید کمی، انتظامی بے ضابطگیاں اور کمزور ریکارڈنگ سامنے آئی۔ نتیجتاً امداد کا بڑا حصہ متاثرہ افراد تک مؤثر طور پر نہیں پہنچ سکا۔ یہ مسئلہ امداد کی کمی کا نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کا ہے۔

عالمی سطح پر امدادی وسائل بھی اب محدود ہو رہے ہیں، جبکہ ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے بیرونی امداد پر مستقل انحصار ممکن نہیں۔ اصل مسئلہ مالی وسائل نہیں بلکہ ادارہ جاتی صلاحیت ہے۔ پالیسیوں کا فقدان نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی کمزوری بنیادی رکاوٹ ہے۔

زرعی اصلاحات، مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی، شفاف ترسیلی نظام اور مضبوط دیہی انفراسٹرکچر جیسے اقدامات پہلے بھی تجاویز کی صورت میں موجود رہے ہیں، مگر ان پر عملی پیش رفت محدود رہی ہے۔

آخرکار پاکستان کا غذائی بحران دراصل ایک انتظامی اور سیاسی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ مسئلہ قدرتی وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان وسائل کے مؤثر اور منصفانہ استعمال میں ناکامی کا ہے۔ جب تک حکومتی ڈھانچہ عوامی مفاد کے مطابق مضبوط اور فعال نہیں ہوتا، غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا بلکہ مزید گہرا ہوتا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos