کسی بھی جمہوری ریاست میں سرکاری دفاتر عوامی خدمت، شفافیت اور رسائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی شہری کے لیے یہ دفاتر وہ جگہیں ہونی چاہییں جہاں وہ اپنے مسائل کے حل، حقوق کے تحفظ اور فوری سہولت کی توقع لے کر جائے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان، خاص طور پر پنجاب میں، یہ تصور تیزی سے بدلتا جا رہا ہے۔ عوامی دفاتر اب خدمت کی بجائے اختیار، طاقت اور دکھاوے کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں حافظ آباد کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کے دفتر کی تزئین و آرائش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کسی مہنگے ہاؤسنگ پراجیکٹ یا فائیو اسٹار ہوٹل کی تشہیر ہو۔ شاہانہ دروازے، قیمتی فرنیچر، نفیس آرٹ ورک، ایل سی ڈی اسکرینیں اور اعلیٰ تعمیراتی سامان—یہ سب کسی عوامی دفتر کے بجائے طاقت کے مظاہر معلوم ہو رہے تھے۔
یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پنجاب میں متعدد سرکاری دفاتر کی “ری برانڈنگ” اسی طرز پر کی گئی ہے۔ پولیس تھانے، ڈی سی آفسز اور پٹوار خانے اس انداز میں سجائے گئے جیسے بیوروکریسی کے لیے کوئی پرتعیش کلب تیار کیا جا رہا ہو۔ حکومت کی جانب سے ان اقدامات کو “ماڈرنائزیشن” کا نام دیا جاتا ہے، لیکن عملی سطح پر عوام کو سہولت یا رسائی میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان شاہانہ عمارتوں کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے وہ حکمرانی کے بجائے دکھاوے پر مبنی ہے۔ جب حکومت اپنے وسائل کو صرف آرائش و زیبائش پر خرچ کرے، جبکہ عوام بنیادی خدمات کے لیے ترستے رہیں، تو یہ عمل ریاستی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
سرکاری ملازمین کو باوقار اور محفوظ کام کی جگہ ضرور ملنی چاہیے، لیکن جب کروڑوں روپے صرف اس مقصد کے لیے خرچ ہوں کہ دفتر خوبصورت نظر آئے، تو یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پاکستان اس وقت بدترین معاشی بحران، بے روزگاری اور مہنگائی سے دوچار ہے۔ ایسے میں بیوروکریٹک دفاتر کو فائیو اسٹار بنانا عوامی غیظ و غضب کو جنم دیتا ہے۔
Please, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com for quality content.
ایک عام پاکستانی شہری کو ان پرتعیش دفاتر سے کچھ حاصل نہیں۔ وہی شہری جو ٹیکس دیتا ہے، جو بجٹ کا اصل سرمایہ فراہم کرتا ہے، وہی ان دفاتر کے باہر دھوپ میں کھڑا ہوتا ہے، فائلوں کے لیے دربدر ہوتا ہے، اور اس کا مسئلہ مہینوں حل نہیں ہوتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ دفتر تو نیا ہو گیا، لیکن رویہ وہی پرانا، سرد مہری بھرا اور ناقابل رسائی۔
یہ دفاتر اب عوام کے لیے کھلنے کے بجائے اشرافیہ کے اقتدار کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ جب ایک دفتر کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سنگ مرمر، فانوس اور دیواروں کی سجاوٹ شہری کی بنیادی سہولت پر ترجیح پائیں، تو یہ نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ ریاستی کردار پر عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
اس عمل سے حکومتی ترجیحات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اصلاحات کا مطلب صرف آرایشی تبدیلیاں نہیں ہوتیں۔ اصل اصلاح یہ ہے کہ خدمات بہتر ہوں، نظام شفاف ہو، اور شہری کو عزت و وقار کے ساتھ سہولت ملے۔ اس کے لیے نہ قیمتی صوفے درکار ہیں، نہ ایل ای ڈی لائٹس، بلکہ خلوص نیت، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت ہے۔
یہ بیوروکریٹک تعیشات نہ صرف ریاستی وسائل کی غلط ترجیح کا مظہر ہیں بلکہ عوامی بیگانگی کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ جب عوام کو لگے کہ ریاست صرف افسران کے آرام کے لیے کام کر رہی ہے، تو وہ ریاستی اداروں سے کٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وہ اعتماد کا فقدان ہے جو معاشرتی بے چینی، غصہ اور سیاسی بے یقینی کو جنم دیتا ہے۔
اس رجحان کو روکنے کے لیے حکومت کو فوری اقدام کرنا ہو گا۔ سرکاری دفاتر کو سادہ، مؤثر، اور ہر شہری کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔ ان کی بنیاد عوامی خدمت، شفافیت، اور جوابدہی پر ہو، نہ کہ آرائش و زیبائش پر۔ اصل خدمت کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں شہری کو عزت دی جائے اور اس کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔
بیوروکریسی کے کلچر کو بھی از سر نو ترتیب دینا ہو گا۔ فائیو اسٹار دفاتر کی خواہش کو کارکردگی کی بنیاد پر عزت میں تبدیل کرنا ہو گا۔ اصل عظمت اس دفتر کی ہے جو انصاف دے، نہ کہ اس دفتر کی جو صرف دکھنے میں خوبصورت ہو۔ بیوروکریسی کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کی خادم ہے، بادشاہ نہیں۔
آخر میں، پاکستان کو فوری طور پر سول سروس اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ اصلاحات صرف ڈھانچہ جاتی نہ ہوں بلکہ اخراجات، ترجیحات اور اہداف کو از سر نو ترتیب دیں۔ ہر سرکاری اخراجات کا جائزہ لیا جائے، اور عوامی مشاورت کو لازمی بنایا جائے۔
اگر ہم واقعی عوامی خدمت پر مبنی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں شاہانہ دفاتر کی نہیں، بلکہ عوام دوست اداروں کی ضرورت ہے۔ عوامی اعتماد کاغذی آرائش سے نہیں بلکہ حقیقی خدمت سے حاصل ہوتا ہے۔ جب تک یہ احساس واپس نہ آئے، تب تک کوئی دفتر، چاہے جتنا بھی خوبصورت ہو، اس کی چمک عوامی ناراضی کو چھپا نہیں سکتی۔













