پاکستان میں دالوں کا بحران: اربوں ڈالر کی زرعی پالیسی کی ناکامی

[post-views]
[post-views]

مدثر رضوان

ایک ایسے ملک کے لیے جو بنیادی طور پر زراعت پر قائم ہو، یہ ایک گہرا تضاد ہے کہ وہ اپنی زمین سے اپنی ضروری خوراک پوری نہ کر سکے۔ پاکستان ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر دالوں کی درآمد پر خرچ کرتا ہے، جن میں مسور، چنا اور مختلف اقسام کی پھلیاں شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادی غذائیں ہیں جو ملک کے کروڑوں غریب افراد کے لیے پروٹین کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری پالیسی کمزوریوں، غلط ترجیحات اور سنجیدہ زرعی حکمتِ عملی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

یہ انحصار صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی خودمختاری کا بھی سوال ہے۔ دالیں غریب طبقے کی بنیادی غذا ہیں، اور جب ایک ملک انہیں بڑی مقدار میں باہر سے منگواتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی عوام کی غذائی خودمختاری کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس وسیع زرعی زمین، کسانوں کی بڑی تعداد اور صدیوں پر محیط کاشتکاری کا تجربہ موجود ہے، اس کے باوجود بنیادی غذائی ضروریات پوری نہ کر پانا ایک سنجیدہ ناکامی ہے۔

ایک حالیہ سیمینار میں، جس میں دالوں کی پیداوار اور ویلیو چین پر گفتگو ہوئی، اس شعبے کی کمزوریاں واضح ہو کر سامنے آئیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں دالوں کی کاشت کل زیرِ کاشت رقبے کے صرف پانچ فیصد پر ہوتی ہے، جو اس کی اہمیت کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پالیسی سازوں نے زیادہ توجہ گندم، چاول، گنا اور کپاس جیسی فصلوں پر مرکوز رکھی۔

پیداواری صلاحیت کا فرق بھی تشویشناک ہے۔ اوسط پیداوار تقریباً 553 کلوگرام فی ہیکٹر ہے، جبکہ جدید طریقے اپنانے والے کسان اسی زمین سے 1500 کلوگرام تک حاصل کر رہے ہیں۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ زمین یا کسان نہیں بلکہ نظام اور سہولتوں کی کمی ہے۔

کاشتکار آج بھی معیاری بیجوں کی کمی، بیماریوں اور موسمی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بارانی علاقوں میں۔ ان علاقوں کو تحقیق اور حکومتی معاونت کی اشد ضرورت ہے، لیکن انہیں اکثر نظر انداز کیا گیا ہے۔

بازار کا نظام بھی اس مسئلے کو بڑھا رہا ہے۔ کم قیمتیں اور کمزور منڈی روابط کسانوں کو دالیں اگانے سے دور کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دالوں کی کاشت کم ہوتی جا رہی ہے اور درآمدات بڑھ رہی ہیں۔

کٹائی کے بعد کے نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ ناقص ذخیرہ، پراسیسنگ کی کمی اور معیار کی نگرانی نہ ہونے کے باعث دالوں کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ اگر ان مراحل کو بہتر بنایا جائے تو نہ صرف نقصان کم ہوگا بلکہ کسانوں کو بہتر منافع بھی مل سکتا ہے۔

ایک بڑی کمزوری تحقیق اور پالیسی کے درمیان خلا ہے۔ مختلف علاقوں میں تحقیق سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن انہیں قومی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح دالوں کو کم زرخیز زمینوں تک محدود کرنا بھی ایک غلط سوچ ہے، کیونکہ بہتر زمین اور مناسب سہولتوں سے ان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

حل موجود ہیں، لیکن ان کے لیے مربوط پالیسی، زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری، کسانوں کی رہنمائی اور منڈی کی اصلاح ضروری ہے۔ پاکستان کے پاس وسائل موجود ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ غذائی تحفظ کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔ جب تک یہ سنجیدگی نہیں اپنائی جاتی، ملک ہر سال ایک ایسا مسئلہ حل کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتا رہے گا جسے وہ خود حل کر سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos