حسیب احمد خان
پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپریل کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، اور یہ اعداد صرف عام کاروباری اتار چڑھاؤ کی کہانی نہیں سناتے بلکہ ایک گہرے معاشی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تیل کی فروخت میں سات فیصد جبکہ مارچ 2026 کے مقابلے میں چھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی فوری وجہ واضح ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل سپلائی کا نظام شدید متاثر ہوا، جس سے بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو صارفین اپنی کھپت کم کر دیتے ہیں، اور یہ معیشت کا ایک بنیادی اصول ہے۔ لیکن اپریل کے اعداد و شمار صرف پٹرول کی کم کھپت نہیں بلکہ ایک زیادہ سنگین حقیقت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عام پاکستانی خاندانوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ جب گھرانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن پر خرچ ہو جائے تو خوراک، ادویات، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے وسائل کم رہ جاتے ہیں۔ اس انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس بحران کا زیادہ خطرناک پہلو عوامی نہیں بلکہ حکومتی اور ادارہ جاتی ہے۔ یہ اس حقیقت سے جڑا ہے کہ پاکستان کی حکومتیں مسلسل پٹرولیم لیوی کو آمدنی حاصل کرنے کا آسان ترین ذریعہ بناتی جا رہی ہیں۔
پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے اس لیے پرکشش ہے کیونکہ اسے وصول کرنا نہایت آسان ہے۔ انکم ٹیکس کے برعکس اس میں نہ پیچیدہ جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے، نہ قانونی کارروائی کا خطرہ اور نہ ہی طاقتور طبقات سے ٹکر لینے کی ضرورت۔ پٹرول پمپ پر فروخت ہونے والے ہر لیٹر سے خودکار طریقے سے حکومت کو آمدنی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہی آسانی حکومتوں کو اس پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ آئینی نوعیت کا ہے۔ عملی طور پر یہ ایک سیلز ٹیکس کی شکل رکھتی ہے، مگر اسے ایسے نظام سے باہر رکھا گیا ہے جس کے تحت وفاقی محصولات صوبوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح وفاق پوری رقم اپنے پاس رکھتا ہے جبکہ صوبے اس آمدنی سے محروم رہتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل وفاقی نظام کی روح کے خلاف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ صوبوں کو بھی قومی وسائل میں منصفانہ حصہ ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنی خدمات اور انتظامی ضروریات پوری کر سکیں۔
اپریل 2026 میں اس معاملے کی سیاسی حساسیت اس وقت سامنے آئی جب حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس قانونی حد کو ختم کر دیا جو پٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ شرح مقرر کرتی تھی۔ حد ختم ہونے کے بعد عوامی ردعمل ہی واحد رکاوٹ رہ گیا۔ اسی عوامی دباؤ کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے لیوی کو کم کر کے اسی روپے فی لیٹر کر دیا، حالانکہ ابتدائی فیصلہ اس سے کہیں زیادہ شرح مقرر کرنے کا تھا۔ یہ اصولی پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ عوامی ناراضی کے باعث پسپائی تھی۔
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی سے تقریباً 1468 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا تھا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔ اپریل کے وسط تک حکومت اس ہدف کا نوے فیصد سے زیادہ وصول کر چکی تھی، جبکہ مالی سال ختم ہونے میں ابھی کئی ہفتے باقی تھے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ حکومت نے اپریل کے آغاز میں لیوی کو تقریباً دوگنا بڑھانے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
اس کا جواب حکومتی مالی مشکلات میں پوشیدہ ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس سال چودہ ہزار ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، مگر جولائی سے اپریل تک اسے سینکڑوں ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا۔ کم درآمدات اور کمزور خریداری کی وجہ سے ٹیکس آمدنی متاثر ہوئی، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے سخت اہداف نے حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔ اسی دباؤ کے تحت حکومت نے دوبارہ پٹرولیم لیوی کا سہارا لیا کیونکہ یہ ایسا ذریعہ ہے جس میں نہ بڑے اصلاحاتی اقدامات درکار ہوتے ہیں اور نہ ہی طاقتور طبقوں سے ٹکر لینا پڑتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف نئے ٹیکس لگانے کے بجائے غیر ضروری حکومتی اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کے بجائے ایسے جاری اخراجات کو محدود کرنا ضروری ہے جو عوامی خدمت کے بجائے سیاسی مفادات کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس سے حکومت پر قرضوں کا دباؤ کم ہوگا اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ اور مضبوط بنانے کے لیے وقت مل سکے گا۔
جب تک یہ بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پٹرولیم لیوی ایک معاشی پالیسی کے بجائے حکومت کے لیے سیاسی سہارا ہی بنی رہے گی۔









