امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر طے پانے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے جلد کوئی معاہدہ نہ کیا تو مزید فوجی کارروائیوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
ایک امریکی چینل کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے تاخیر کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان مثبت پیش رفت پر مبنی مذاکرات ہوئے ہیں اور ایران امریکا کی جنگ بندی سے متعلق تجویز پر غور کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے امکانات کافی روشن ہیں اور دونوں ممالک کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے اندر ایسے عناصر سے رابطہ جاری ہے جو معاہدے کے حق میں ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران حتمی طور پر کسی ڈیل پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔







