ادارتی تجزیہ
پاکستان اس وقت ایک ایسی علاقائی تبدیلی کو غور سے دیکھ رہا ہے جس میں اس کا ایک پرانا دوست ملک آہستہ آہستہ اس کے حریف کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ ابوظہبی کے دوران بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ خطے میں اثر و رسوخ کی نئی ترتیب ہیں، جن کے براہِ راست اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت، سمندری سلامتی، سائبر تعاون اور طویل المدتی توانائی معاہدوں سمیت کئی اہم شعبوں میں سمجھوتے ہوئے ہیں۔ بھارت صرف تیل خریدنے تک محدود نہیں بلکہ خلیجی خطے کے اسٹریٹجک نظام میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور ابوظہبی کے تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی دکھائی نہیں دیتی۔ ہوائی اڈوں کے انتظام سے متعلق معاہدے کا ختم ہونا، مالی معاملات میں سخت شرائط اور متحدہ عرب امارات کی ترجیحات میں تبدیلی اسلام آباد کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں یہ صورتحال پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بھارت متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل مدت کے لیے تیل ذخیرہ کرنے اور سپلائی کے معاہدے کر رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی درآمدی اخراجات اور مالی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے اگر خلیجی تیل کا بڑا حصہ بھارتی منڈیوں کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے توانائی کے حصول میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ توانائی صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ بحران کے وقت ایک اہم سفارتی اور اسٹریٹجک ہتھیار بھی بن جاتی ہے۔
سلامتی کے میدان میں بھی صورتحال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ بھارت گزشتہ کئی برسوں سے خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے اور اب بحیرۂ عرب میں اپنی بحری موجودگی بڑھا رہا ہے۔ ماضی میں اس خطے میں پاکستان کا کردار مضبوط سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت مسلسل خلیجی دارالحکومتوں میں پاکستان کو سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتے تعلقات اس مؤقف کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے ایک واضح اور طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا، خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے معاشی روابط بڑھانا اور بحیرۂ عرب کو عسکری کشیدگی سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر سفارت کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی برادری اور فوجی تعلقات اب بھی پاکستان کا اہم اثاثہ ہیں، لیکن صرف روایتی تعلقات کافی نہیں رہے۔ آج خلیجی ممالک ان شراکت داروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور بڑے وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں، اور پاکستان کو بھی انہی شعبوں میں اپنی صلاحیت مضبوط بنانا ہوگی۔







