پی ٹی آئی کے احتجاج کی ضمانت دیتا ہوں، ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے: فضل الرحمان

[post-views]
[post-views]

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اپنی سخت سیاسی حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کافی حد تک فاصلے کم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس خدشے کے باعث ان کیمرہ اجلاس بلانے سے گریز کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو وہ اس حوالے سے ضمانت دینے کو تیار ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کی تقاریر کو سرکاری ذرائع ابلاغ پر مناسب جگہ نہیں دی جا رہی، حالانکہ پارلیمان کے تمام اراکین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور جمہوری روایات کے تحت سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاقِ جمہوریت کو وہ قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ خود اور پی ٹی آئی کے بانی اس کے دستخط کنندگان نہیں تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود قرضوں اور غربت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عام شہری بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کو روایتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔

جے یو آئی (ف) سربراہ نے 18ویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری سے متعلق مباحث پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے آئینی اور مالی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے سود کے خاتمے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور شریعت سے متعلق قوانین پر عمل درآمد میں سست روی پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر سمیت سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے، جبکہ صوبوں کے مالی حقوق اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق وعدوں پر بھی مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]