اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.94 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ حکومتِ پاکستان کو موصول ہونے والی بیرونی رقوم قرار دی گئی ہے۔
مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 23.99 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
ان ذخائر میں سے 18.47 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ 5.52 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے ہفتہ وار اعلامیے میں کہا کہ زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ حکومتِ پاکستان کو موصول ہونے والی بیرونی رقوم کے باعث ممکن ہوا۔
اعلامیے کے مطابق 3 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.944 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ بڑھ کر 18.471 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
اس سے قبل ختم ہونے والے ہفتے میں بھی مرکزی بینک کے ذخائر میں 611 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا، جو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
بدھ کے روز پاکستان بینکاری سربراہی اجلاس 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 20.2 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2023 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے، جو مالی سال 2025-26 کے اختتام تک تقریباً چھ گنا بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔









