تہران: ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد پیر کے روز ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں شریک ہوئے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کی پہلی اہم عوامی موجودگی سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ابتدائی دنوں میں احمدی نژاد کی رہائش گاہ کے قریب واقع علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کے زیر انتظام شائع ہونے والے ایک اخبار نے اطلاع دی کہ اس حملے میں محمود احمدی نژاد کے تین محافظ ہلاک ہو گئے تھے۔
محمود احمدی نژاد سن دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔ سن دو ہزار نو میں ان کے متنازع دوبارہ انتخاب کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، کیونکہ اپوزیشن نے انتخابی نتائج پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے انتخابی نتائج کی بھرپور حمایت کی تھی۔
بعد ازاں محمود احمدی نژاد اور ایرانی سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات نمایاں ہو گئے۔ سن دو ہزار سترہ میں آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے اس کے باوجود اپنی امیدوار ی جمع کرا دی۔ بعد میں نگہبان کونسل نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔
اس کے بعد بھی محمود احمدی نژاد نے سیاست میں واپسی کی کوششیں جاری رکھیں، تاہم انہیں سن دو ہزار اکیس اور دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں بھی نااہل قرار دے دیا گیا، جس کے باعث وہ دوبارہ صدارت کے انتخاب میں حصہ نہ لے سکے۔









