پاکستان کے نظامِ صحت کا ایک سنگین بحران

[post-views]
[post-views]

Dr Bilawal Kamran

کسی بھی مہذب ریاست میں ہسپتال امید، تحفظ اور زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں، والدین اور عزیزوں کو اس یقین کے ساتھ علاج کے لیے ہسپتال لے کر جاتے ہیں کہ وہاں بیماری کا علاج ہوگا، نہ کہ نئی بیماری ملے گی۔ مگر پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایچ آئی وی کے بار بار سامنے آنے والے پھیلاؤ نے اس بنیادی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہر چند برس بعد کسی نہ کسی شہر کے کسی ہسپتال یا کلینک سے ایچ آئی وی کے درجنوں یا سیکڑوں نئے مریض سامنے آتے ہیں، تحقیقات شروع ہوتی ہیں، رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں، سفارشات مرتب کی جاتی ہیں، لیکن کچھ عرصے بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ پھر کسی دوسرے شہر میں وہی سانحہ دوبارہ جنم لیتا ہے۔ کراچی کے والیکا ہسپتال کا حالیہ واقعہ بھی اسی افسوسناک سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔

والیکا ہسپتال کے گردونواح میں اب تک دس ہزار پانچ سو سے زائد افراد کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں ایک سو بیس افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ سرکاری تحقیقات کے مطابق ان میں اٹھہتر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ چھ بچوں کی جان جا چکی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے خاندانوں کی داستان ہے جنہوں نے معمول کے طبی علاج کی غرض سے ہسپتال کا رخ کیا، لیکن انہیں زندگی بھر کے لیے ایک ایسے مرض کا سامنا کرنا پڑا جس سے مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا۔ ایک ایسا مرض جس کا سبب قدرتی آفت یا لاعلاج بیماری نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص انتظام اور نظامی ناکامی ہے۔

سندھ حکومت نے اس سانحے کے بعد کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اسکریننگ کا عمل جاری ہے، مریضوں کے علاج کی ذمہ داری سرکاری سطح پر اٹھائی گئی ہے اور متاثرہ بچوں کے لیے ایک مستقل مالیاتی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات قابلِ تحسین ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف نتائج سے نمٹنے کی کوششیں ہیں، ان اسباب کا علاج نہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا۔ جب تک بنیادی خامیوں کو دور نہیں کیا جائے گا، پاکستان چند برس بعد کسی اور شہر اور کسی دوسرے ہسپتال میں اسی طرح کے سانحے کا دوبارہ سامنا کرے گا۔

تحقیقاتی رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر ان کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے جن کی نشاندہی ماہرین گزشتہ کئی برسوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر مناسب عمل نہیں کیا گیا، ایک مرتبہ استعمال ہونے والے طبی آلات کے دوبارہ استعمال کے شواہد سامنے آئے، جراثیم سے پاک ماحول برقرار رکھنے کے لیے ضروری سامان کی کمی تھی، جبکہ ہسپتال کے اندر نگرانی کا نظام بھی انتہائی کمزور ثابت ہوا۔ یہ تمام خامیاں نہ تو نئی ہیں اور نہ ہی غیر معمولی۔ پاکستان کے متعدد سرکاری اور نجی طبی اداروں میں یہی مسائل برسوں سے موجود ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات میں شامل ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اسی نوعیت کی کوتاہیاں صرف والیکا ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ کئی نجی کلینکس اور دیگر طبی مراکز میں بھی دیکھی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظامِ صحت کا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ پاکستان پہلے بھی ایسے سانحات کا سامنا کر چکا ہے۔ 2019 میں سندھ کے ضلع رتوڈیرو میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے تھے۔ اس وقت کی تحقیقات میں بھی یہی وجوہات سامنے آئی تھیں: غیر محفوظ انجیکشن، ناقص جراثیم کشی، کمزور نگرانی، غیر رجسٹرڈ کلینکس، اور صحت کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان۔ اس واقعے کے بعد حکومتوں نے انفیکشن کنٹرول کو مضبوط بنانے، طبی عملے کی تربیت، کلینکس اور تشخیصی مراکز کی سخت نگرانی، اور بیماریوں کی بروقت نشاندہی کے لیے نگرانی کے جدید نظام قائم کرنے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود انہی خامیوں کا دوبارہ سامنے آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات محض اعلانات تک محدود رہیں اور عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔

پاکستان کا صحت کا نظام اس وقت محض وسائل کی کمی کا شکار نہیں بلکہ انتظامی کمزوری، ناقص احتساب اور غیر مؤثر ضابطہ کاری جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ اگر ایک ہسپتال میں استعمال ہونے والی سرنج یا طبی آلات دوبارہ استعمال کیے جا رہے ہوں، جراثیم کشی کے اصول نظر انداز کیے جا رہے ہوں اور متعلقہ ادارے اس سے بے خبر رہیں، تو یہ انفرادی غفلت نہیں بلکہ ریاستی نگرانی کی ناکامی ہے۔ صحت عامہ کا نظام صرف عمارتوں، مشینوں اور ادویات سے نہیں چلتا بلکہ مضبوط قواعد، مؤثر نگرانی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور جوابدہی کے نظام سے چلتا ہے۔

اس بحران کا پہلا تقاضا سخت اور شفاف احتساب ہے۔ والیکا ہسپتال میں جن افراد یا انتظامی ذمہ داران کی غفلت ثابت ہو، ان کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی ہی نہیں بلکہ جہاں شواہد موجود ہوں وہاں فوجداری مقدمات بھی قائم کیے جائیں۔ ایسے واقعات کو محض انتظامی غلطی قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، کیونکہ یہاں غفلت کے نتیجے میں معصوم بچوں کو عمر بھر کی بیماری لاحق ہوئی ہے۔ احتساب کا مقصد انتقام نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والی غفلت ناقابلِ معافی جرم ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں، کلینکس اور تشخیصی مراکز کا آزادانہ انفیکشن کنٹرول آڈٹ ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ آڈٹ صرف موجودہ بحران کے بعد ایک وقتی مہم نہ ہو بلکہ مستقل نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اچانک اور غیر اعلانیہ معائنے معمول بنائے جائیں تاکہ ادارے صرف معائنے کے دن صفائی اور احتیاط کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ روزمرہ کے معمولات بھی معیاری ہوں۔ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے لیے ایسے جرمانے اور سزائیں مقرر کی جائیں جو ان کے طرزِ عمل میں حقیقی تبدیلی پیدا کریں۔

محفوظ انجیکشن، ایک مرتبہ استعمال ہونے والے طبی آلات کی لازمی فراہمی، طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنا اور جراثیم سے پاک ماحول برقرار رکھنا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ ہر طبی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری ٹیکنیشنز اور دیگر طبی عملے کے لیے انفیکشن کنٹرول کی باقاعدہ تربیت لازمی قرار دی جائے اور صرف سرٹیفکیٹ دینے کے بجائے ان کی عملی مہارت کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ بیماریوں کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید نگرانی کا نظام، ڈیجیٹل رپورٹنگ اور قومی سطح پر مربوط ڈیٹا بیس قائم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی بیماری کے پھیلاؤ کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکے۔

اس کے علاوہ ایچ آئی وی سے متعلق عوامی آگاہی مہمات کو بھی وسعت دینا ہوگی۔ صرف ٹیسٹ کرانے کی ترغیب کافی نہیں بلکہ اس بیماری سے وابستہ سماجی بدنامی کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ جب تک لوگ ایچ آئی وی کو شرمندگی کا باعث سمجھتے رہیں گے، وہ بروقت تشخیص اور علاج سے گریز کریں گے، جس کے نتیجے میں بیماری مزید پھیلتی رہے گی۔ صحت عامہ کی پالیسی میں طبی سہولیات کے ساتھ سماجی رویوں کی اصلاح بھی اتنی ہی اہم ہے۔

پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ علاج کے لیے کسی ہسپتال یا کلینک میں داخل ہو تو اسے بیماری نہیں بلکہ صحت ملے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو یہ بنیادی یقین بھی فراہم نہ کر سکے کہ طبی مراکز محفوظ ہیں، تو پورا نظامِ صحت اپنی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام تصور ہوگا۔ والیکا ہسپتال کا سانحہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ ایک قومی انتباہ ہے۔ اگر اس مرتبہ بھی اصلاحات صرف رپورٹوں اور بیانات تک محدود رہیں تو مستقبل میں مزید معصوم زندگیاں اسی غفلت کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]