اٹھارویں آئینی ترمیم کی تکمیل: صوبائی منصوبہ بندی کمیشنوں کے قیام کی ناگزیر ضرورت

[post-views]
[post-views]

Tahir Maqsood

اٹھارویں آئینی ترمیم کو نافذ ہوئے سولہ برس گزر چکے ہیں، مگر پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کا ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں چل رہا ہے جیسے آئینی اصلاحات سے پہلے چلتا تھا۔ آئین نے اگرچہ متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے، لیکن ترقیاتی منصوبہ بندی کے اہم فیصلوں پر اب بھی اسلام آباد کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ یہ تضاد وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کی یہ تجویز کہ ہر صوبہ اپنا خودمختار صوبائی منصوبہ بندی کمیشن قائم کرے، نہایت اہم اور بروقت ہے۔ انہوں نے یہ تجویز پاکستان کے ترقیاتی بجٹ اور اختیارات کی منتقلی کے بعد درپیش چیلنجز پر منعقدہ ایک پالیسی مذاکرے میں پیش کی۔ یہ تجویز درحقیقت اس بنیادی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے جو اٹھارویں ترمیم کے بعد حکمرانی کے نظام میں اب تک موجود ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کا مقصد صرف وفاقی وزارتوں سے فائلیں اور محکمے صوبوں کو منتقل کرنا نہیں تھا۔ اس اصلاح کا اصل مقصد فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا تھا تاکہ پالیسیاں اسلام آباد میں تیار ہونے والے عمومی مفروضوں کے بجائے مقامی ضروریات، مسائل اور ترجیحات کی بنیاد پر تشکیل دی جا سکیں۔ صحت، تعلیم، آبادی کی بہبود اور متعدد دیگر شعبوں کو اسی سوچ کے تحت صوبوں کے سپرد کیا گیا تھا۔ توقع یہ تھی کہ صوبائی حکومتیں اپنی ترقیاتی ترجیحات کی خود ذمہ داری سنبھالیں گی، نہ کہ صرف انتظامی ڈھانچہ ورثے میں حاصل کریں گی۔ لیکن جب تک منصوبہ بندی، جو یہ طے کرتی ہے کہ کون سا منصوبہ شروع ہوگا، کس پر سرمایہ کاری ہوگی اور کن شعبوں کو ترجیح دی جائے گی، وفاقی اداروں کے زیرِ اثر رہے گی، تب تک اس آئینی تصور کی حقیقی تکمیل ممکن نہیں۔

عام طور پر منصوبہ بندی کو ایک محدود انتظامی سرگرمی سمجھا جاتا ہے، جیسے سالانہ ترقیاتی پروگرام مرتب کرنا، بجٹ مختلف محکموں میں تقسیم کرنا یا ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دینا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے۔ مؤثر منصوبہ بندی کے لیے ایسے طویل المدتی اہداف کا تعین ضروری ہوتا ہے جو انتخابی ادوار سے بالاتر ہوں۔ اس کے ساتھ منصوبوں کی فنی و معاشی جانچ، مختلف منصوبوں کے متوقع فوائد کا تقابلی جائزہ، مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی، اور ترقیاتی نتائج کا دیانت داری سے جائزہ لینا بھی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ ہے تاکہ ناکامیوں سے سیکھا جا سکے اور مستقبل میں بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ اگر کوئی صوبہ یہ صلاحیت خود اپنے اداروں کے ذریعے پیدا نہیں کرتا تو وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر ادا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

پاکستان کی محدود مالی گنجائش نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی پر سرکاری وسائل کا اتنا بڑا حصہ خرچ ہو رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ اپنی افادیت ثابت کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اب کمزور منصوبہ بندی، غیر شفاف منصوبوں کے انتخاب اور ناقص احتساب کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ مضبوط منصوبہ بندی معاشی خوشحالی کے دور کی آسائش نہیں بلکہ مالی مشکلات کے زمانے کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

ترقی کے تصور میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم، صحت اور غذائیت کو محض سماجی اخراجات نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کاری سمجھا جائے، کیونکہ یہی شعبے مستقبل کی پیداواریت، معاشی ترقی اور قومی خوشحالی کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہ صرف اصطلاحات کی تبدیلی نہیں بلکہ ترقیاتی منصوبہ بندی کے پورے فلسفے میں تبدیلی ہے۔ ایک جدید منصوبہ بندی کمیشن کو معاشی ترقی اور انسانی ترقی کو الگ الگ شعبوں کے بجائے ایک مربوط حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ صوبائی منصوبہ بندی کمیشن اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں ہیں کیونکہ وہ ان مقامی آبادیوں کے قریب ہوتے ہیں جن کی انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ان کا بنیادی ہدف ہوتا ہے۔

پاکستان کے مختلف صوبوں کے معاشی، سماجی اور جغرافیائی حالات ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں، اس لیے ایک ہی طرز کی مرکزی منصوبہ بندی پورے ملک کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی۔ بلوچستان کی ترقیاتی ترجیحات اس کے قدرتی وسائل، وسیع رقبے اور آبادی کی ساخت کی وجہ سے پنجاب سے مختلف ہیں۔ سندھ کو بڑے شہری مراکز اور شہری انتظام کے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کو سرحدی، پہاڑی اور سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے متنوع حالات میں ایک مرکزی منصوبہ بندی کا ماڈل مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا، جبکہ صوبائی سطح پر قائم ادارے مقامی حقائق کو بہتر انداز میں سمجھ کر وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم کر سکتے ہیں۔

یہ تصور اختیارات کی منتقلی کے اس بنیادی اصول سے بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے جسے اٹھارویں آئینی ترمیم نے فروغ دیا تھا۔ اختیارات کا مقصد صرف وفاق سے صوبوں تک منتقلی نہیں تھا بلکہ انہیں مزید نچلی سطح، یعنی مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا بھی اس عمل کا لازمی حصہ تھا۔ مؤثر حکمرانی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب فیصلے ان لوگوں کے قریب کیے جائیں جن پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کو فروغ دیں تاکہ ضلعی اور شہری سطح کے مسائل کا بروقت اور مؤثر حل ممکن ہو سکے۔ اس اعتبار سے اختیارات کی منتقلی کوئی ایک وقتی آئینی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے، جو پاکستان میں ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

گزشتہ کئی برسوں سے یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کا اصل سبب وسائل کی کمی، اخراجات کی غیر مؤثر تقسیم یا کمزور ادارے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم ان میں سب سے زیادہ قابلِ اصلاح پہلو ادارہ جاتی کمزوری ہے، اور صوبائی منصوبہ بندی کمیشن اس مسئلے کے حل کی جانب ایک عملی، قابلِ عمل اور آئینی قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ بہتر منصوبہ بندی اکیلے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی، لیکن ناقص منصوبہ بندی یقینی طور پر اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ محدود وسائل بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے، خواہ ترقیاتی بجٹ میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ کر دیا جائے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو اس انداز میں تشکیل دینا تھا کہ اختیارات ان اداروں اور حکومتوں کے پاس ہوں جو عوام کے قریب ہوں اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جب تک صوبے ایسے وفاقی اداروں پر انحصار کرتے رہیں گے جو ایک انتہائی مرکزی ریاست کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیے گئے تھے، اس آئینی وژن کی تکمیل ممکن نہیں ہوگی۔ صوبائی منصوبہ بندی کمیشنوں کا قیام صرف اختیارات کی منتقلی کی تکنیکی شرط پوری نہیں کرے گا بلکہ پاکستان کی ترقیاتی منصوبہ بندی کو زیادہ دور اندیش، منظم، شفاف اور نتیجہ خیز بنائے گا، تاکہ ترقی کے ثمرات ان اضلاع، شہروں اور دیہی علاقوں تک پہنچ سکیں جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں: 0300 9552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]