بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

یمنی حکومت کا حوثیوں پر ایران کی مدد سے باب المندب میں بحری گزرگاہ پر فیس نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام

[post-views]
[post-views]

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثی گروہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کی رہنمائی میں بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کا نظام قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بدھ کے روز یمن کے وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے کہا کہ حوثی اس منصوبے کے ذریعے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر مالی کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہیں ایران کی معاونت حاصل ہے۔

انہوں نے اس مبینہ اقدام کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بین الاقوامی بحری راستے کو حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں اور جنگی مقاصد کے لیے مستقل مالی ذریعہ بنانا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق حال ہی میں حاصل ہونے والی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ماہرین اور مشیر اس منصوبے کے انتظامی اور فنی ڈھانچے کی تیاری میں براہ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ منصوبے کے تحت ایک علیحدہ ادارہ قائم کیا جائے گا جو باب المندب سے گزرنے والی تجارتی کمپنیوں اور بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرے گا۔

ان الزامات کے بعد خلیجی ممالک میں یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ حوثی ایران کی طرز پر ایک اور اہم بحری گزرگاہ سے آمدن حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت میں مزید بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سعودی آئل ٹینکروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

اس صورتِ حال نے سعودی عرب کی یومیہ لاکھوں بیرل خام تیل برآمد کرنے کی صلاحیت پر خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کے بعد باب المندب سعودی برآمدات کے لیے ایک اہم متبادل بحری راستہ تصور کیا جا رہا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]