اسلام آباد: پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین ملکی مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ فوجی کمان، انٹیلی جنس، تزویراتی منصوبہ بندی اور عسکری تعلیم کے شعبوں میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔
اتحاد میں شامل تینوں ممالک نے گزشتہ ماہ اتفاق کیا تھا کہ اس کے پہلے سیکریٹری جنرل کے لیے پاکستان نامزدگی کرے گا۔ نعمان محمود اتحاد کے ابتدائی دور میں اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ریاض میں تعیناتی کے دوران ان کی فوری ذمہ داریوں میں رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور ان کے سیاسی وعدوں کو عملی دفاعی و سلامتی انتظامات میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔
عسکری کیریئر کا آغاز 1987 میں ہوا
بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے نعمان محمود ستمبر 1987 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کر کے عسکری خدمات میں شامل ہوئے۔
انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، مصر کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی۔ وہ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔
ان کے عسکری کیریئر کا ایک نمایاں حصہ پیشہ ورانہ فوجی تعلیم سے وابستہ رہا۔
انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں مختلف تدریسی ذمہ داریاں انجام دیں اور بعد ازاں چیف انسٹرکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان ذمہ داریوں کے دوران وہ فوجی افسران کی تربیت، عسکری حکمتِ عملی اور عملی منصوبہ بندی سے متعلق امور سے وابستہ رہے۔
شمالی وزیرستان میں فوجی کمان کا تجربہ
میجر جنرل کی حیثیت سے نعمان محمود نے شمالی وزیرستان میں ایک انفنٹری ڈویژن کی کمان کی، جہاں پاک فوج کئی برسوں سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھی۔
اس تعیناتی کے دوران وہ ملک کے حساس ترین سکیورٹی علاقوں میں سے ایک میں فوجی فارمیشن کی قیادت کرتے رہے۔
بعد ازاں انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے تجزیاتی ڈائریکٹوریٹ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔
اس منصب پر ان کی ذمہ داریوں میں پاکستان کی قومی سلامتی کے تناظر میں بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لینا شامل تھا۔
آئی ایس آئی میں تعیناتی کے دوران انہیں غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کا تجربہ بھی حاصل ہوا، جس سے وہ انٹیلی جنس تعاون اور تزویراتی تجزیے کے معاملات سے وابستہ رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی اور الیون کور کی کمان
نعمان محمود کو اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں انسپکٹر جنرل کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا۔
اسی سال دسمبر میں انہوں نے پشاور میں الیون کور کی کمان سنبھالی۔
ان کی بطور کور کمانڈر تعیناتی پاکستان کی مغربی سرحد پر اہم تبدیلیوں کے دور سے مطابقت رکھتی تھی۔
اس وقت امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کی تیاری کر رہا تھا، جبکہ پاکستان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری رکھنے کے ساتھ افغانستان میں بدلتی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا تھا۔
نعمان محمود نے نومبر 2021 میں الیون کور کی کمان چھوڑ دی۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی سربراہی
کور کمانڈر کی ذمہ داریوں کے بعد نعمان محمود کو اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ اس ادارے کے 35ویں سربراہ تھے۔
وہ اپریل 2023 میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ تک اس منصب پر فائز رہے۔
سال 2022 میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی تبدیلی کے موقع پر ان کا شمار ان افسران میں بھی کیا جاتا تھا جنہیں آرمی چیف کے عہدے کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
علاقائی دفاعی تعاون میں نئی ذمہ داریاں
مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے نعمان محمود اس کے سیکریٹریٹ کی قیادت کریں گے، جبکہ اتحاد اپنے انتظامی طریقۂ کار اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو تشکیل دینے کے ابتدائی مراحل میں ہے۔
ان کے سابقہ عسکری عہدوں میں قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی، افغانستان سے متصل حساس سرحدی علاقے کی ذمہ داری، انٹیلی جنس تجزیہ، بین الاقوامی رابطہ کاری اور قومی سلامتی و تزویراتی امور کی تدریس شامل ہیں۔
یہ تجربات ایک نئے کثیر ملکی دفاعی اتحاد میں رابطہ کاری اور ادارہ جاتی انتظامات سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔
اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر نعمان محمود اس کے انتظامی اور عملی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے ساتھ تینوں رکن ممالک کے درمیان دفاعی و سلامتی تعاون کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کریں گے۔









