لاہور: پنجاب کے ایک سول سرونٹ کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھے گئے ایک خط نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی حکمرانی کا بنیادی تضاد وفاقی آئین کے باوجود ایک وحدانی بیوروکریسی کا برقرار رہنا ہے، جو مؤثر اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان، خصوصاً اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد، اختیارات کی واضح تقسیم کر چکا ہے، مگر سول سروس کا ڈھانچہ اب بھی مرکزی نوعیت کا ہے۔ مصنف کے مطابق یہی تضاد صوبائی خودمختاری، مؤثر حکمرانی اور آئینی وفاقیت کو کمزور کر رہا ہے۔
خط میں آئین کے آرٹیکل 97، 142، 240 اور 240(ب) کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ صوبائی سول سروسز کو آئینی تقاضوں کے مطابق منظم کیا جانا چاہیے۔ مصنف کے مطابق جب تک اس بنیادی مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، انتظامی اصلاحات، گڈ گورننس اور عوامی خدمت کے تمام منصوبے محدود نتائج ہی دے سکیں گے۔
خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنف نے حکمرانی اور ریاستی اصلاحات پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں فکسنگ دی ایگزیکٹو، فکسنگ دی لیجسلیچر، فکسنگ دی جوڈیشری اور دی بیوروکریٹک کو شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں حقیقی اصلاحات کے لیے بیوروکریسی کو وفاقی آئینی اصولوں کے مطابق ازسرنو منظم کرنا ضروری ہے۔
مصنف نے واضح کیا کہ ان کا مقصد اپنی طویل او ایس ڈی حیثیت کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کے آئینی دلائل پر علمی اور ادارہ جاتی جواب حاصل کرنا ہے تاکہ سول سروس اصلاحات پر سنجیدہ قومی مکالمہ شروع ہو سکے۔









