اسلام آباد میں نِلور پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر جبری شادی قبول کرنے سے انکار پر اس کے خاندان نے قتل کر دیا۔
حنا نامی خاتون کو نومبر 2025ء میں اس کی مرضی کے خلاف نوید حسن نامی شخص سے شادی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ شادی سے ناخوش حنا بعد ازاں لاہور منتقل ہوگئی، جہاں اس نے عدالت سے خلع حاصل کر لیا۔
بعد ازاں حنا کے والد اسے لاہور سے واپس اسلام آباد لے آئے۔ گھر لے جانے سے قبل انہوں نے مبینہ طور پر 13 اگست 2026ء کو ایک پولیس اسٹیشن میں تحریری حلف نامہ جمع کرایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی بیٹی کو دوبارہ کسی شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حنا کے شوہر کی جانب سے نامعلوم افراد کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کی منسوخی کی درخواست بھی کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق حنا کے والد نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا اور اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، جس کے بعد وہ اسے اپنے گھر لے گئے۔








