نیپرا کے ارکان مقصود انور خان، آمنہ احمد اور غلام اللہ شیخ کی زیر صدارت ہونے والی عوامی سماعت میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو افسر ریحان اختر نے بتایا کہ جولائی میں ایندھن کی لاگت میں فی یونٹ 2.52 روپے اضافے کی بنیادی وجہ ایل این جی کی فوری منڈی سے ریکارڈ مقدار میں خریداری تھی۔ یہ خریداری اس وقت ضروری ہوگئی جب قطر سے طے شدہ ایل این جی کی کھیپیں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پاکستان نہ پہنچ سکیں۔
سماعت میں متعدد شرکا نے بجلی پیدا کرنے والے اداروں، خصوصاً پورٹ قاسم پاور پلانٹ کی جانب سے کوئلے کی درآمد پر سوالات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان درآمدات کا غیرضروری بوجھ صارفین پر ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے لیے کوئلے کی خریداری کا زیادہ منصفانہ اور شفاف طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔
صنعتی نمائندوں، جن میں زیادہ تر کراچی سے تعلق رکھتے تھے، نے اضافی کھپت سے منسلک صنعتی معاونتی پیکیج پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیکیج زیادہ تر صنعتوں کو فائدہ پہنچانے میں ناکام رہا ہے اور چھ ماہ بعد اس پر نظرثانی کے سابقہ وعدے کے باوجود گزشتہ نو ماہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
صنعتی نمائندوں نے یکم جنوری سے نافذ کیے گئے ٹیرف کی ازسرنو تعیین پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مختص سبسڈی کم کرنے کے لیے بنیادی پیمانوں کو دانستہ طور پر کم رکھا گیا، لیکن بعد میں ایندھن کی لاگت بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں ایندھن کی لاگت کی ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی نظرثانی کے ذریعے صارفین پر مزید 206 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نیپرا نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی تھی کہ چھ ماہ کے اندر صنعت سے مشاورت کرکے اضافی ٹیرف کا جائزہ لیا جائے، لیکن ان کے مطابق ایسی کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔
نیپرا کی رکن آمنہ احمد نے کہا کہ پاور ڈویژن اضافی صنعتی پیکیج پر اپنی نظرثانی پہلے ہی جمع کراچکا ہے، تاہم یہ افسوس ناک ہے کہ صنعتی صارفین اب بھی خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیپرا نظرثانی کی درخواست پر پیش رفت نہیں کرے گا بلکہ اسے پاور ڈویژن کو واپس بھیج دے گا، تاکہ صنعت سے حقیقی اور جامع مشاورت کے بعد تجویز کو دوبارہ مرتب کیا جائے۔
فرنس آئل کی برآمد
صنعتی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب حکومت ملک میں فرنس آئل کے استعمال پر بھاری پٹرولیم لیوی عائد کررہی ہے تو اسے رعایتی نرخوں پر برآمد کیوں کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنس آئل کی برآمد کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ لیوی کے باوجود ایل این جی اور فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت میں فرق صرف 3 روپے فی یونٹ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرنس آئل پر وصول ہونے والی پٹرولیم لیوی کی آمدن کو صنعتی بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، جیسا کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔
ریحان اختر نے تسلیم کیا کہ اس تجویز میں وزن ہے اور حکومت اس پر غور کررہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی پروگرام سے متعلق تکنیکی پابندیوں کے باعث اس پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ طے شدہ ایل این جی کی کھیپوں کی عدم دستیابی نے پنجاب کے بڑے بجلی گھروں کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری منڈی سے ایل این جی درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کیا، جبکہ باقی کمی کو کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے پورا کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تیسرے یونٹ میں ایندھن بھرنے کے عمل کو کمی پوری کرنے کے لیے مرحلہ وار کرنے کا حکومتی فیصلہ صارفین کے مفاد کے خلاف ثابت ہوا، کیونکہ حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ 1,100 میگاواٹ کا یہ بجلی گھر اب 31 اگست تک مکمل پیداوار پر واپس آنے کی توقع ہے، جبکہ پہلے اسے 20 اپریل سے 20 جون تک بند رکھنے کا منصوبہ تھا۔
سماعت میں بتایا گیا کہ جولائی میں ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بڑھ کر 47.4 روپے فی یونٹ ہوگئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اضافہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث قطری ایل این جی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد مہنگی فوری منڈی کی کھیپوں کا انتظام کرنے کی وجہ سے ہوا۔
ریحان اختر نے خبردار کیا کہ صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اگست میں ایل این جی کی قیمتیں تقریباً ایک تہائی مزید بڑھ رہی ہیں۔ اس اضافے کا بوجھ اکتوبر کے بجلی کے بلوں میں صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔
منظوری کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، جن میں سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیاں اور کے الیکٹرک شامل ہیں، ستمبر کے بلوں میں صارفین سے مجموعی طور پر مزید 36 ارب 55 کروڑ روپے وصول کریں گی۔









