بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

اوپن اے آئی کا اسپیس ایکس کی ملکیت والے کورسر کو اے آئی ماڈلز کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان

[post-views]
[post-views]

اوپن اے آئی کا اسپیس ایکس کی ملکیت والے کورسر کو مصنوعِ ذہانت کے ماڈلز کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان، مسک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ

اوپن اے آئی نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ کورسر—جو کہ کوڈنگ کا آلہ بنانے والی کمپنی ہے اور جسے اب ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے حاصل کر لیا ہے—کو اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز فراہم کرنا بند کر دے گی۔ یہ قدم اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان طویل عرصے سے جاری حریفانہ کشیدگی میں مزید اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

مسک اور آلٹمین کے درمیان برسوں سے تنازع چلا آ رہا ہے، جو رواں سال کے اوائل میں مسک کی جانب سے اوپن اے آئی کے خلاف دائر کردہ ایک سو پچاس ارب ڈالر کے مقدمے کے دوران مزید شدید ہو گیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران مسک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مسک اور دیگر گواہوں نے آلٹمین کو ایک غیر مخلص اور غیر قابلِ اعتماد شخص کے طور پر دیکھا ہے، جبکہ اوپن اے آئی نے ردِعمل میں کہا کہ مسک دراصل کمپنی کا کنٹرول خود حاصل کرنا چاہتے تھے۔

اوپن اے آئی نے اپنے ایک بلاگ کے ذریعے کہا: “ہم یہ فیصلہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے گزشتہ تجربات کی روشنی میں، ہمیں اس بات پر اعتماد نہیں ہے کہ اسپیس ایکس ہماری ٹیکنالوجی کو ہماری سروس کی شرائط کے مطابق استعمال کرے گی۔”

ایلون مسک نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے آلٹمین اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین پر ناقابلِ اعتبار ہونے کا الزام عائد کیا اور اپنے اس پرانے موقف کو دہرایا کہ ان دونوں نے مل کر اس ادارے پر قبضہ کر لیا جسے بنیادی طور پر ایک غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

دنیا کے امیر ترین شخص مسک نے رواں سال کے اوائل میں اوپن اے آئی اور آلٹمین کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ذاتی فائدے کے لیے کمپنی کے بنیادی رفاہی مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ تاہم، ایک وفاقی جیوری نے مسک کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ انہوں نے یہ مقدمہ بہت تاخیر سے دائر کیا تھا۔

کورسر کے شریک بانی اور اسپیس ایکس کے موجودہ عہدیدار مائیکل ٹروئل نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کی کمپنی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اوپن اے آئی کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]