اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اتوار کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے نیویارک روانہ ہوگئے، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اہم سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کا دورہ 21 سے 25 ستمبر تک جاری رہے گا، جس کے دوران وہ کثیرالجہتی مذاکرات، وزارتی اجلاسوں اور دوطرفہ ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔
وزیر خارجہ اسلامی تعاون تنظیم کے جموں و کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کے اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کریں گے۔
وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ رابطہ اجلاس اور دیگر رابطہ گروپوں کی نشستوں میں بھی شرکت کریں گے۔
فلسطین کا مسئلہ سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں رہے گا
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی سفارتی حمایت کے سلسلے میں متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
ان کی مصروفیات میں آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ کا اجلاس اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے قائم عالمی اتحاد کا وزارتی اجلاس شامل ہیں۔
ان اجلاسوں میں شریک ممالک کو فلسطین کی تازہ صورتِ حال اور تنازع کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
مصنوعی ذہانت، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور علاقائی تعاون پر بات چیت
اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق اعلیٰ سطحی بریفنگ سے بھی خطاب کریں گے۔
ان کے شیڈول میں وبائی امراض کی روک تھام، ان سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی ردِعمل سے متعلق اجلاس میں شرکت بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ وہ اقتصادی تعاون تنظیم کی وزارتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
نائب وزیراعظم مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
وہ نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتوں اور دیگر سرکاری مصروفیات میں بھی شریک ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ان ملاقاتوں کے دوران علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کریں گے اور اہم بین الاقوامی و علاقائی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اعلیٰ سطحی ہفتہ دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت اور اعلیٰ سفارت کاروں کو اہم عالمی مسائل پر بات چیت اور سفارتی تعاون مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔









