اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرحد پار کی جانے والی اس کی فوجی کارروائیاں محدود، متناسب اور صرف ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہیں جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
دفترِ خارجہ نے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے مسلسل دہشت گرد حملوں کے باوجود پاکستان نے اپنی کارروائیوں میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلسل بگڑتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرحد پار دہشت گردی، فوجی کارروائیوں اور شہری آبادی کے تحفظ سے متعلق اختلافات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے بنیادی اسباب بن چکے ہیں۔
حالیہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب افغان وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے مبینہ طور پر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ 2021 کے اواخر سے افغانستان میں پاکستان کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 1,119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر دونوں ممالک کے متضاد دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث ان کارروائیوں میں شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ بدستور ایک اہم تنازع بنا ہوا ہے۔
پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا
دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں 3,500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس تعداد کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی، اس لیے اسے پاکستانی حکام سے منسوب سرکاری دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
اسلام آباد نے بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان سے منسلک تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور معاونت میسر ہے۔
دفترِ خارجہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ہزاروں پاکستانی شہری ایسے دہشت گرد حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت یا عملی سہولت کاری افغان سرزمین سے کی گئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق بارہا مطالبات کے باوجود طالبان انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت پڑوسی ممالک میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری سے متعلق الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
تاہم اسلام آباد کے نزدیک بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا کابل پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے والے مسلح گروہوں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے مؤثر، قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات کر رہا ہے یا نہیں۔
پاکستان نے فوجی کارروائیوں کو حقِ دفاع کا استعمال قرار دیا
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں اس کی فوجی کارروائیاں دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں اور ان کا مقصد افغان شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ کارروائیاں ضرورت کے اصول کے تحت اور آخری چارے کے طور پر کی گئیں۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیوں کا ہدف افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور ان کے انتظامی و رسدی معاونت کے مراکز تھے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستانی افواج نے بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں، بالخصوص عسکری اہداف اور شہری آبادی کے درمیان امتیاز کرنے اور شہری نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے تقاضوں کی پابندی کی۔
دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش دہشت گرد حملوں کی شدت اور تسلسل کے باوجود اس کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ محدود رکھا گیا، جو تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم یہ مؤقف پاکستان کے سرکاری بیان کا حصہ ہے۔ کسی مخصوص سرحد پار فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت اور بین الاقوامی قانون سے مطابقت کا تعین متعلقہ حالات، دستیاب شواہد اور کارروائی کی نوعیت کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر مسلسل حملوں کے باوجود خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
پاکستان نے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے حق کا بھی اعادہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بھی سلامتی سے متعلق خدشات کی نشاندہی
افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے خدشات اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں میں بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیار کے تحت تیار کردہ ایک نگرانی رپورٹ، جو 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے، میں تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے افغان طالبان کی مسلسل معاونت کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافے سے منسلک کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ کابل نے اس تنظیم کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بعض ابتدائی اقدامات کیے ہیں۔
یہ نتائج پاکستان کے سلامتی سے متعلق خدشات کو اہم بین الاقوامی تناظر فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان سے اسلام آباد کے ہر الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی اور نہ ہی شہری ہلاکتوں سے متعلق متنازع دعووں کا حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان بارہا طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، خصوصاً کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک مراکز، ختم کرے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان مطالبات کے باوجود خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔
یہ تنازع اب معمول کے سفارتی اختلافات سے آگے بڑھ کر سرحدی سلامتی، فوجی تعلقات اور علاقائی تعاون کے امکانات کو متاثر کر رہا ہے۔
ستمبر کی سرحدی جھڑپوں سے دوطرفہ کشیدگی میں اضافہ
ستمبر کے دوران سرحد پار ہونے والی متعدد جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے بعد سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں اور انہیں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف محدود اور متناسب جوابی اقدامات قرار دیا۔
اس کے بعد افغان سرزمین سے مبینہ ڈرون دراندازی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
بعدازاں اسلام آباد نے مزید دو مراحل میں جوابی فضائی کارروائیاں کیں۔
ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کی کشیدگی میں اضافہ کیا اور مزید فوجی تصادم کے امکانات کے بارے میں خدشات پیدا کیے۔
سرحدی علاقوں میں آباد شہریوں کے لیے بار بار ہونے والی کشیدگی ذاتی تحفظ، آمدورفت، روزگار اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرتی ہے۔
اس تنازع کے سفارتی اثرات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان جغرافیائی قربت کے ساتھ گہرے تجارتی، معاشرتی اور تاریخی روابط رکھتے ہیں۔ اس لیے طویل فوجی کشیدگی دونوں ممالک کے لیے معاشی اور انسانی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
سلامتی سے متعلق شکایات کے ازالے اور متنازع واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے مؤثر طریقۂ کار کی عدم موجودگی میں باہمی الزامات عدم اعتماد کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے طالبان مخالف گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات بھی مسترد کر دیے
دفترِ خارجہ کا حالیہ بیان امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک اور تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو مسترد کیا تھا کہ اسلام آباد افغان طالبان کے خلاف لڑنے والے افغان گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے اس دعوے کو گمراہ کن اور شواہد سے عاری قرار دیا۔
پاکستان نے طالبان انتظامیہ کے اس مؤقف کو بھی چیلنج کیا کہ اس کے پاس دوسرے ممالک میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود نہیں۔
پاکستانی حکام نے کابل پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے توجہ ہٹانے کے لیے متبادل الزامات عائد کر رہا ہے۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع اب صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی عدم استحکام کی ذمہ داری کے حوالے سے متضاد سفارتی مؤقف اور بیانیے بھی اس کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
علاقائی استحکام کے لیے جواب دہی اور مذاکرات ناگزیر
دفترِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مبینہ ناکامی پر جواب دہ بنایا جائے۔
تاہم اس کے ساتھ شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات بھی نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جن کی قابلِ اعتماد تحقیقات ضروری ہیں، خواہ یہ الزامات کسی بھی فریق کی جانب سے عائد کیے گئے ہوں۔
متضاد دعووں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے آزادانہ تصدیق، شفاف معلومات اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان کے سلامتی سے متعلق خدشات اور افغانستان کی جانب سے شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان کے الزامات دو الگ نوعیت کے مسائل ہیں، جن کا جائزہ محض سیاسی بیانات کے بجائے قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
بنیادی چیلنج یہ ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کرتے ہوئے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو مزید بگاڑ سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔
پاکستان نے اپنے شہریوں، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
تاہم موجودہ کشیدگی کو پائیدار امن کی جانب منتقل کرنے کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی، فوجی اقدامات کی قابلِ اعتماد جواب دہی اور سفارتی روابط کی بحالی ناگزیر ہوگی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا سلامتی کا قیام صرف فوجی اقدامات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے دہشت گردی کے خاتمے، شہری آبادی کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور باہمی اعتماد کی بحالی پر مبنی ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔
علاقائی امن کا مستقبل اسی بات سے وابستہ ہے کہ دونوں ممالک الزام تراشی اور مسلسل تصادم سے آگے بڑھ کر سلامتی کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے مؤثر، ذمہ دارانہ اور قابلِ عمل اقدامات اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔









