بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ایران کی خلیج میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز پر حملوں کی دھمکی، امریکہ اور اسرائیل کی نئی فوجی کارروائی پر جوابی اقدامات کا انتباہ

[post-views]
[post-views]

دبئی: ایران نے مبینہ طور پر خلیج میں زیرِ سمندر بچھائی گئی اہم مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی صورت میں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران مواصلاتی نظام کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے دو اعلیٰ سکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے جواب میں ایک وسیع تر حکمت عملی کے تحت زیرِ سمندر مواصلاتی نیٹ ورکس پر حملوں کے ہنگامی منصوبے تیار کیے ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور تصادم روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں جوابی کارروائی روایتی فوجی اہداف سے آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔

معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے دونوں حکام نے ممکنہ حملوں کی عملی تفصیلات یا مخصوص مقامات کی نشاندہی نہیں کی۔

تاہم ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران تباہ ہونے والی کیبلز کی مرمت روکنے کی بھی کوشش کرے گا، جس سے خطے میں انٹرنیٹ رابطوں اور دیگر ضروری مواصلاتی خدمات میں تعطل طویل ہو سکتا ہے۔

عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں تہران اپنے ردعمل پر پہلے سے عائد پابندیوں کا مزید لحاظ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ممکنہ اہداف میں زیرِ سمندر مواصلاتی نیٹ ورکس کے علاوہ فوجی تنصیبات اور بعض غیر اعلانیہ مقامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن کو مزید فوجی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز ممکنہ ہدف

یہ انتباہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی کے بدھ کے روز دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملے کی صورت میں تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز خلیج کو خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، تاہم اس کی اہمیت علاقائی مواصلاتی نظام تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔

زیرِ سمندر بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز بین الاقوامی ڈیجیٹل رابطوں کی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور مختلف ممالک اور براعظموں کے درمیان معلومات کی بڑی مقدار منتقل کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی اتحاد کے مطابق دنیا بھر کے تقریباً 99 فیصد انٹرنیٹ رابطوں کا ڈیٹا زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

تاہم ٹیلی مواصلات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ان کیبلز پر حملوں کے اثرات پوری دنیا کے انٹرنیٹ نظام کے بجائے زیادہ تر متعلقہ خطے تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

ٹیلی مواصلاتی تحقیقاتی ادارے ٹیلی جیوگرافی کے تحقیقی ڈائریکٹر ایلن مولڈن کے مطابق بین الاقوامی مواصلاتی رابطوں کی مجموعی گنجائش کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔

اس نسبتاً محدود حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حملوں سے خلیجی ممالک کے بعض مواصلاتی نیٹ ورکس اور علاقائی رابطے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم عالمی انٹرنیٹ نظام پر مجموعی اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ اور ایران کی وزارتِ خارجہ نے مبینہ ہنگامی منصوبوں سے متعلق رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ خلیجی حکومتوں کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے خلاف وسیع جوابی کارروائی کا اشارہ

مبینہ منصوبے امریکہ کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم سے متعلق ایران کی اعلان کردہ حکمت عملی میں ایک وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایرانی سکیورٹی حکام مسلسل یہ اشارے دے رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں تہران کا ردعمل گزشتہ جھڑپوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اور وسیع ہوگا۔

رواں ماہ کے آغاز میں ایران کی اہم سکیورٹی شخصیت محسن رضائی نے خبردار کیا تھا کہ ایک اور جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک میں امریکی مفادات سے وابستہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بھی نشانہ بن سکتا ہے۔

ان کے انتباہ میں ڈیٹا مراکز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سہولیات کا خصوصی ذکر شامل تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ فوجی تصادم میں اہم تکنیکی سرمایہ کاری کو دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

ایسی دھمکیوں کے خلیجی معیشتوں کے لیے اہم نتائج ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول پر بھاری وسائل خرچ کیے ہیں۔

ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار تہران کے بجائے واشنگٹن کو ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اس بیان کا بظاہر مقصد امریکہ پر سفارتی دباؤ بڑھانا تھا، تاکہ خطے میں اس کے شراکت دار ممالک کو ایک اور جنگ کے ممکنہ معاشی اور تکنیکی نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔

خلیجی سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کو خطرات

مواصلاتی بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں نے خلیجی ممالک کو درپیش سلامتی کے مسائل میں ایک نئی جہت پیدا کر دی ہے۔

اگرچہ علاقائی حکومتیں روایتی طور پر توانائی کی تنصیبات، بحری تجارتی راستوں اور فوجی مراکز کے تحفظ پر توجہ دیتی رہی ہیں، لیکن ڈیجیٹل خدمات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے ان کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔

بینکاری نظام، تجارتی لین دین، سرکاری مواصلات اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والی صنعتوں کے لیے مستحکم مواصلاتی نیٹ ورکس ناگزیر ہیں۔

چنانچہ زیرِ سمندر کیبلز کے رابطوں میں طویل تعطل کاروباری اداروں اور عوامی خدمات کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً اگر مرمت کی کارروائیوں میں رکاوٹیں ڈالی جائیں۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتنکا نے تہران کے انتباہ کو ایک وسیع تر دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔

ان کے مطابق ایرانی حکام خلیجی حکومتوں اور خطے میں نمایاں سرمایہ کاری رکھنے والی امریکی کمپنیوں کو ممکنہ نتائج سے خبردار کرکے نئی فوجی کارروائی کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں۔

واتنکا کا کہنا تھا کہ تہران چاہتا ہے کہ علاقائی حکومتیں اور بڑی کمپنیوں کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالے اور انہیں اس خطرے سے آگاہ کرے جو ایک نئے تصادم سے ان کے معاشی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو لاحق ہو سکتا ہے۔

اس حکمت عملی کا بظاہر مقصد یہ ہے کہ ایک اور فوجی تصادم کے مالی نتائج واشنگٹن اور اس کے علاقائی شراکت داروں کے فیصلوں میں بنیادی اہمیت اختیار کر جائیں۔

سفارتی کوششوں پر بڑھتا ہوا دباؤ

ایران کی تازہ دھمکیاں ایک ایسے حساس مرحلے پر سامنے آئی ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

اگرچہ مبینہ ہنگامی منصوبوں کی مکمل تفصیلات آزادانہ طور پر سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کی صلاحیت کا عوامی سطح پر مظاہرہ کیا گیا ہے، تاہم ایرانی سکیورٹی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ممکنہ اہداف کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہا ہے۔

زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز اور جدید ڈیجیٹل تنصیبات کو ممکنہ اہداف میں شامل کرنے کے انتباہات جدید جغرافیائی و سیاسی تنازعات میں تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔

اس صورت حال نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ علاقائی حکومتیں معاشی روابط برقرار رکھتے ہوئے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہوئے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اپنے ضروری مواصلاتی نظام کا تحفظ کیسے یقینی بنا سکتی ہیں۔

خلیجی ممالک کے لیے یہ چیلنج روایتی فوجی سلامتی سے آگے بڑھ چکا ہے۔ اب انہیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ علاقائی کشیدگی کے دوران ان کے اہم ڈیجیٹل نظام فعال رہیں۔

ایران کے تازہ انتباہات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اور فوجی تصادم نہ صرف فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے بلکہ خلیجی ممالک کی تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی ہوئی معیشتوں کو سہارا دینے والے مواصلاتی نیٹ ورکس کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]