ریپبلک پالیسی | معیشت اور توانائی کے امور | ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء
ٹرانسپورٹ اور صنعت پر معاشی اثرات
پاکستان کی معیشت میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مختلف شعبوں میں ہوتا ہے، تاہم دونوں کی قیمتوں کے اثرات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
پیٹرول زیادہ تر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ براہِ راست عام شہریوں کی روزمرہ آمدورفت اور متوسط و کم متوسط آمدن والے گھرانوں کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال برداری، بجلی پیدا کرنے والے بعض پلانٹس اور بڑے صنعتی جنریٹرز کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی پیداوار، صنعتی مصنوعات اور روزمرہ ضرورت کی اشیا کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں معیشت کے مختلف شعبوں میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل حکومتی محصولات کے حوالے سے بھی اہم ترین پیٹرولیم مصنوعات ہیں۔ ان کی ماہانہ فروخت تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب تقریباً دس ہزار ٹن ہے۔
اس لیے ان مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی نہ صرف حکومتی آمدن بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور گھرانوں کی قوتِ خرید کو بھی متاثر کرتی ہے۔
حکومتی آمدن اور عوامی ریلیف میں توازن کا چیلنج
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ ایک بار پھر حکومتی مالی ضروریات اور عوام کو قابلِ برداشت قیمتوں پر ایندھن فراہم کرنے کے درمیان موجود مشکل توازن کو نمایاں کرتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وفاقی حکومت کو آمدن فراہم کرتے ہیں، لیکن ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ کے اخراجات، صنعتی مسابقت اور گھرانوں کی روزمرہ ضروریات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
مخصوص طبقوں کے لیے سبسڈی اور مالی امداد کمزور معاشی حیثیت رکھنے والے صارفین کو وقتی سہارا دے سکتی ہے۔ تاہم ایسی اسکیموں کی کامیابی کے لیے مستحق افراد کے انتخاب کا شفاف نظام، مؤثر عمل درآمد اور مناسب مالی وسائل ضروری ہیں۔
پاکستان کے لیے توانائی کا طویل المدت مسئلہ درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنا، عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا، توانائی کے استعمال میں بچت اور مقامی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا بھی ہے۔
بنیادی پالیسی سوال محض یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے پر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی تبدیلی کی جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک اپنے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے صارفین کو کس طرح تحفظ فراہم کرے اور اپنی معیشت کو بیرونی توانائی کے بحرانوں کے بار بار پیدا ہونے والے اثرات سے کیسے محفوظ بنائے۔
فی الحال ڈیزل کی قیمت کا ۴۰۰ روپے فی لیٹر کے قریب پہنچنا اس حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال پاکستان کے داخلی معاشی حالات پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات، ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے ہوگا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت پیٹرول پر فی لیٹر ۱۱۴ روپے جبکہ ڈیزل پر ۱۰۰ روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
قیمتوں میں یہ تازہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ اس تنازعے سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کا بوجھ برقرار
اگرچہ حالیہ اضافے کی شرح نسبتاً کم ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکسوں کی پالیسی عوام کو سستا ایندھن فراہم کرنے کی بحث میں ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
وفاقی حکومت اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر ۱۱۴ روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ۱۰۰ روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
یہ محصولات پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی قیمت کا ایک بڑا حصہ ہیں اور حکومت کے لیے آمدن کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔
تاہم ان ٹیکسوں کے تسلسل پر سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب عوام کو مہنگائی، آمدن میں کمی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔
منگل کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے اپنی جماعت کے مطالبے پر بات چیت کی۔
ملاقات میں حکومت اور جماعت اسلامی نے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا، جو پہلے سے جاری ایندھن پر ریلیف کی اسکیم کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔
ستمبر میں متعارف کرائی گئی اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور ۸۰۰ سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو مخصوص مالی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے نومبر کے وسط تک عوام کے لیے کوئی بڑا ریلیف پیکیج پیش نہ کیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کرے گی۔
جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ایندھن اب بھی کہیں زیادہ مہنگا
اگرچہ اپریل میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کی قیمتوں سے خاصی زیادہ ہیں۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت ۳ اپریل کو ۵۲۰ روپے ۳۵ پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس سے پہلے ۲۸ فروری کو جنگ شروع ہونے کے وقت ڈیزل تقریباً ۲۸۱ روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
اسی طرح مارچ کے پہلے ہفتے میں پیٹرول کی قیمت تقریباً ۲۶۶ روپے فی لیٹر تھی، جو بڑھتے بڑھتے ۳ اپریل کو ۴۵۸ روپے ۴۱ پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
ٹرانسپورٹ اور صنعت پر معاشی اثرات
پاکستان کی معیشت میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مختلف شعبوں میں ہوتا ہے، تاہم دونوں کی قیمتوں کے اثرات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
پیٹرول زیادہ تر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ براہِ راست عام شہریوں کی روزمرہ آمدورفت اور متوسط و کم متوسط آمدن والے گھرانوں کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال برداری، بجلی پیدا کرنے والے بعض پلانٹس اور بڑے صنعتی جنریٹرز کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی پیداوار، صنعتی مصنوعات اور روزمرہ ضرورت کی اشیا کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں معیشت کے مختلف شعبوں میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل حکومتی محصولات کے حوالے سے بھی اہم ترین پیٹرولیم مصنوعات ہیں۔ ان کی ماہانہ فروخت تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب تقریباً دس ہزار ٹن ہے۔
اس لیے ان مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی نہ صرف حکومتی آمدن بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور گھرانوں کی قوتِ خرید کو بھی متاثر کرتی ہے۔
حکومتی آمدن اور عوامی ریلیف میں توازن کا چیلنج
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ ایک بار پھر حکومتی مالی ضروریات اور عوام کو قابلِ برداشت قیمتوں پر ایندھن فراہم کرنے کے درمیان موجود مشکل توازن کو نمایاں کرتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وفاقی حکومت کو آمدن فراہم کرتے ہیں، لیکن ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ کے اخراجات، صنعتی مسابقت اور گھرانوں کی روزمرہ ضروریات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
مخصوص طبقوں کے لیے سبسڈی اور مالی امداد کمزور معاشی حیثیت رکھنے والے صارفین کو وقتی سہارا دے سکتی ہے۔ تاہم ایسی اسکیموں کی کامیابی کے لیے مستحق افراد کے انتخاب کا شفاف نظام، مؤثر عمل درآمد اور مناسب مالی وسائل ضروری ہیں۔
پاکستان کے لیے توانائی کا طویل المدت مسئلہ درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنا، عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا، توانائی کے استعمال میں بچت اور مقامی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا بھی ہے۔
بنیادی پالیسی سوال محض یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے پر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی تبدیلی کی جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک اپنے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے صارفین کو کس طرح تحفظ فراہم کرے اور اپنی معیشت کو بیرونی توانائی کے بحرانوں کے بار بار پیدا ہونے والے اثرات سے کیسے محفوظ بنائے۔
فی الحال ڈیزل کی قیمت کا ۴۰۰ روپے فی لیٹر کے قریب پہنچنا اس حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال پاکستان کے داخلی معاشی حالات پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔









