دنیا بہت تیزی سے ڈیجیٹل ورلڈ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی تیزی سے دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل اس دنیا سے رخصت کرنے والا اگر واپس آجائے تو دنگ رہ جائے گا۔ بنی نوع انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ان ایجادات میں آج کل بہت مشہور اور استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا نےدنیاکو گلوبل بنا کر طوفان برپا کر دیا۔ دنیا کے کسی چھوٹے خطے میں بھی کوئی واقع رونما ہو جائے تو چند منٹوں میں پوری دنیا میں اس کا چرچہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ چند سال پہلے دیکھا جائے تو لوگ رابطوں کے لیے خطوط وغیرہ کا سہارا لیتے تھے۔ کچھ عرصہ اور گزرا تو ٹیلی فون نے اس کی جگہ لے لی ۔ پھر موبائل کی ٹیکنالوجی کا وقت ہوا اور اب تو ہر طرف سوشل میڈیا کا چرچہ ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹوئیٹر نے ان سب کی جگہ لے لی ہے۔
مزیدپڑھیں: https://republicpolicy.com/is-pti-social-media-army-invincible/
کچھ عرصہ قبل پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے ہمیں آگاہی ملتی تھی لیکن سوشل میڈیا کی بدولت فوراً ہی کسی بھی واقع کی اطلاع منٹوں میں پھیل جاتی ہے۔ دنیا کی تمام چیزوں میں نیکی و بد کا عنصر موجود ہوتا ہے ۔ اب یہ ہمارا اوپر منحصر ہے کہ ہم اُسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بنیادی مقصد تو مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد تک خیالات اور نظریات کی رسائی تھا۔ جس سے لوگوں کی اکثریت نے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔ اسی بنا پر سوشل میڈیا کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہو گیا۔ کسی بھی واقعے کی خبر، تصویر ، ویڈیو چند منٹوں میں لاکھوں لوگ تک پہنچ جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اس میں سر فہرست ہیں ، فیس بک، لنک ڈن ، ٹوئیٹر جہاں لوگ اپنی پروفائل شیئر کرتے ہیں قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح مائیکرو بلاگنگ سائٹس میں انسٹاگرام،اسنیپ چیٹ، پِنٹ ریسٹ وغیرہ ، ویڈیو شیئرنگ سائٹس میں یوٹیوب ، فیس بک لائیو، آئی جی ٹی وی،اسکائپ،ٹِک ٹاک اوراسنیک مقبول ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/cryptocurrencybitcoin-and-altcoins-a-good-investment-a-brief-insight/
جہاں سوشل میڈیا نے لوگوں کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔ وہاں اس نے لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ بہت سارے نئے قسم کے فراڈ بھی سوشل میڈیا کی بدولت پھیل رہے ہیں۔ آن لائن کاروبار کے عوامل میں کچھ شرپسند عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہ شر پسند عناصر لوگوں سے آن لائن کاروبار کے نام پر لاکھوں روپے لوٹ لیتے ہیں۔
پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کےاستعمال کے حوالے سے کچھ قوانین متعارف کروائے ہیں۔ ایف آئی اے بھی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی فراڈ عروج پر ہے۔ ان فراڈز سے بچنے کے لیے لوگوں میں آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔ پی ٹی اے ، ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں کو لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے سمینارز کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ لوگ اپنی جمع پونجی لُٹنے سے بچا سکیں۔









