پانی اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے۔ کرہ ارض پر زندہ رہنے کے لیے پانی کی ایک ایک بوند کی قدر ضروری ہے کیونکہ اس نعمت کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔
پانی زمین کے دو تہائی حصے پر محیط ہے مگر اس کا بیشتر حصہ قابل استعمال نہیں۔ زمین کے 71 فیصد حصے پر جو پانی مختلف صورتوں میں موجود ہے اُس کا صرف 3 فیصد پانی فریش واٹر ہے۔ اُس 3 فیصد میں سے بھی اڑھائی فیصد گلیشیرز اور ہوا میں نمی کی صورت میں ہے جو پینے کے تو قابل ہے مگر آسانی سے میسر نہیں ہے۔
اس طرح سے زمین کے ٹوٹل آبی ذخائر کا صرف 0.5 فیصد دنیا کی 7 ارب سے زائد آبادی کے استعمال کے لیے دستیباب ہے۔ جس کے رزلٹ کے طور پر دنیا میں 1.1 ارب لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہی نہیں۔ دنیا میں 2.7 ارب لوگ ایسے ہیں کہ جن کو سال میں ایک ماہ پانی کی قلت شدید متاثر کرتی ہے اور 2.4 ارب لوگ ایسے ہیں جو ناقابلِ استعمال پانی پیتے ہیں اور یوں وہ مختلف بیماریوں جیسا کے یرقان، ہیضے اور دیگر امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/pakistan-k-shehron-ma-traffic-k-bharty/
اقوامِ متحدہ کے مطابق عالمی سطح پر آبی ذخائر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ سال 2025 میں جو کہ ہم سے محض 4 برس کی مسافت پر ہے، دنیا کی آبادی کا دو تہائی حصہ آبی وسائل کی کمی سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوگا۔
پاکستان بھی آبی ذخائر میں کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان کی اکثریت آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ پاکستان میں آبی مسائل کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ لوگ جن کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہے۔ دوسرا آبی ذخائر کی کمی ہے۔ تیسرا صوبوں کے مابین پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور چوتھا آبی وسائل کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ نہ کیا جاناہے۔
پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 6 ممالک میں سے ایک ہے، پاکستان میں پانی کے مسائل بڑھنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔ بڑے شہروں میں آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے حالات زیادہ خراب ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی کی 20 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ۔ آبی ذخائر کی گرتی صحت کے پیچھے ہمارے انڈسٹریل سیکٹر یعنی کارخانوں کا بڑا کردار ہے جو ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/pakistan-ko-jahmhoriat-ki-zarurat-ha/
اسی طرح سے یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 70 کی دہائی کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا۔ اب کہیں جا کر ديامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان پر کام جاری ہے۔ ڈیموں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم پانی ذخیرہ نہیں کر پاتے اور بارشیں زیادہ ہونے کی صورت میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے، اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، دیہات زیر آب آجاتے ہیں، اور بارشیں نہ ہونے کی صورت میں قحط سالی کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ملک میں ڈیمز تعمیر کروائی اور صوبوں کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے قوانین متعارف کروائیں۔ پانی کو ریگولیٹ کروانے کےلیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ تاکہ ملک میں رہنے والے ہر شہری کو پینے کا صاف پانی میسر آسکے۔









