ایک خبر کے مطابق پنجاب کے ایک لاکھ 44 ہزار مستحق افراد گزشتہ برس اپریل سے زکوۃ کے منتظر ہیں اور اس دوران صوبے بھر کی 25 ہزار زکوٰۃ کمیٹیاں بھی تحلیل کی جاچکی ہیں۔ محکمہ زکوٰۃ و عشر پنجاب کی جانب سے نابینا افرادکوزکوٰۃ کی مد میں دو ہزار جبکہ دیگر مستحق افراد کو 1500 روپے ماہانہ گزار الاؤنس دیا جاتا تھا جو کہ اس بدترین مہنگائی میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن اب یہ نادار افراد تقریبا گزشتہ دس مہینوں سے اس برائے نام رقم سے بھی محروم ہیں۔ زکوۃ فنڈز کی عدم فراہمی سے ہسپتالوں میں بھی مستحقین کے علاج معالجے کا سلسلہ بھی رُک چکا ہے۔ یہ امر سابقہ صوبائی حکومت کی بے حسی کا مظہر ہے کہ اس عرصہ کے دوران صوبے میں سیاسی رسہ کشی کے باوجود اربوں روپے مالیت کے بے تحاشا ترقیاتی منصوبے تو شروع کیے گئے لیکن نادار اور مستحق افراد کو زکوٰۃ فراہم نہ کی جاسکی۔ جبکہ اس دوران بلند ترین مہنگائی نے معاشرے کے اس انتہائی غریب طبقے کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت ان نادار افراد کی دادرسی کے لیے بلا تاخیر مرکزی زکوۃ فنڈ سے فنڈز جاری کرے۔ معاشرے کے مخیر حضرات کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنے ارد گرد موجود غریب نادار اور مستحق افراد کی دلجوئی اور مددکرنی چاہیے تا کہ اس کمر توڑ مہنگائی میں وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ بھر سکیں۔













