حکومت پاکستان نے ملک کو در پیش معاشی زبوں حالی سے نمٹنے کےلیے کفایت شعاری کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے اس کے تحت کا بینہ اپنی تنخواہوں اور دیگر مراعات سے دستبردار ہو گی۔ ان کا کہنا ہے اس سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ لگژری گاڑیوں کا استعمال ممنوع اور موجود لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان وزیر اعظم پاکستان نے بذات خود پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ کیا یہ ویسا ہی اعلان ہے جوستمبر 2018 میں سابقہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے کیا تھا؟ جس میں تقریباً 102 لگژری گاڑیوں کو بذریعہ اخبار اشتہار نیلام کیا گیا تھا، اور بعد میں ضرورت پڑنے پر پھر سے مہنگے داموں امپورٹ کروائی گئی۔
کا بینہ ار کان تنخواہیں اور مراعات نہیں لیں گے۔ اگر کا بینہ ارکان تنخواہیں اور مراعات نہیں لیں گے تو گزارہ کیسے کریں گے ۔کیونکہ سرکاری عہدہ رکھنے والا کوئی بھی فرد دیگر کوئی کاروبار یا ملا زمت نہیں کر سکتا۔
کفایت شعار اقدامات سے معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟
ان اقدامات کے نتیجہ میں پاکستان کے درآمدات میں کوئی خاص کمی آنے والی نہیں۔ ماہر معیشت کے مطابق لگژری چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے سے ملک کے تجارتی خسارے میں تھوڑی کمی تو ہو گی لیکن ان اقدامات سے روپے کو مستحکم کرنے کا تصور ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ روپے میں کمی کی وجہ در آمدات کے بڑھتے ہوئے بل کے علاوہ بھی ہیں جن پر اب تک کام نہیں کیا گیا۔ اصل مسئلہ تیل کی درآمد ہے جو در آمدی بل کو بڑھانے اور تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ ہے۔ تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لانے کے لیے حکومت کو ملک میں تیل کی کھپت کم کرنی پڑے گی۔ جس کا ایک حل یہ ہے کہ ملک میں کام کرنے کے اوقات میں کمی لائی جائے۔ ایک دن گھر سے کام کی پالیسی اپنائی جائے ۔ ہفتے اور اتوار کو مکمل چھٹی ہو۔ اس طرح بجلی بنانے کیلئے مہنگی ایل این جی خریدنے کی بجائے سورج کی توانائی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ اصل مسئلہ تیل اور گیس کی درآمد ہے۔ لگژری چیزیں ایک الگ مسئلہ ہے پاکستان اپنی ضروریات زندگی کی عام اشیاء بھی در آمد کرنے پر مجبور ہے۔ حتی کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم بھی دوسرے ممالک سے درآمد کر رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی تیل اور گیس کی کھپت پر قابو پالیں تو تجارتی خسارے میں بہت حد تک کمی واقع ہوگی۔تنخواہوں ،مراعات، لگژری گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی کے تجر بات تو پاکستان پہلے بھی کر چکا ہے۔













