
مصنف: ڈاکٹر محمد کلیم
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارا تبادلہ خوشاب میں ہوا تھا۔ خوشاب میں ہم کو جو سرکاری گھر ملا وہ کافی وسیع و عریض تھا اور ہم گھر میں چار افراد۔ جب شام کو ملازم چھٹی کر کے چلے جاتے تو اتنا بڑا گھر کاٹنے کو دوڑتا اور ایک عجیب قسم کی تنہائی، اداسی اور مایوسی کا احساس جاگنے لگتا۔ ویسے تو ہمیں بھی خالی گھر کاٹنے کو دوڑتا تھا لیکن اس کا زیادہ احساس ہماری زوجہ صاحبہ کو ہوا اور انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ کوئی جانور کو پالا جائے۔
گھر میں اس موضوع پر کافی بحث ہوئی۔ ہم نے کتا پالنے کا مشورہ دیا۔ بیگم صاحبہ نے فوراً رد کر دیا۔ ایک تو خون خوار جانور ہے اور دوسرا اسلام نے اس جانور کو گھر میں رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ گھر میں نحوست پھیلتی ہے۔ ہم نے کہا ہم بلی پال لیتے ہیں۔ بلی خوب صورت ہوتی ہے اور میاؤں میاؤں کرتی ہوئی کتنی پیاری لگتی ہے۔ بلی اس لیے رد ہو گئی کہ بیگم صاحب کے مطابق بلی سے دمہ کا مرض ہوتا ہے اس لیے وہ ٹھیک نہیں۔ ویسے بھی گھر میں دو خون خوار جان داروں کے ہونے سے تشدد اور لڑائی کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے کتا اور بلی رد ہوئے اور آخر کار قرعہ فال مرغیوں کے حق میں نکلا۔
بقول زوجہ صاحبہ کے مرغیاں بڑی بے ضرر مخلوق ہیں اور گھرمیں ان کو رکھنے سے گھر میں دیسی انڈے بھی آتے رہیں گے اور اگر کبھی کوئی مرغی بیمار ہو گئی تو دیسی مرغی کی کڑاہی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ ان تمام فوائد کے تحت مرغیاں پالنے کا ارادہ پکا ہو گیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ مرغیاں کہاں سے لی جائیں۔ ہم نے اس کا ذکر اپنے ڈرائیور سے کیا تو دیکھتے ہیں کہ شام کو ایک جوڑا مرغیوں کا آ گیا ہے اور مرغا اذانیں دے کر اپنے آنے کا اعلان کر رہا تھا۔
دنوں دنوں میں بیگم صاحبہ نے کوئی دس بارہ مرغیاں اور تین مرغے اکٹھے کر لیے اور آ، آ، آ پکار کے ان کو دانہ دینا شروع کر دیا۔ صبح، دوپہر، شام ان کو دانا ڈالا جاتا، پانی رکھا جاتا، دانا رکھنے اور پانی رکھنے کی وجہ سے کئی اور پرندے بھی گھر کی منڈیر پر آنا شروع ہو گئے اور گھر میں خوب دھما چوکڑی مچنے لگی۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
ہم نے غور کیا ہے۔ مرغے کا کام اذانیں دینا، لڑنا، دیوار پر چڑھنا اور عشق لڑانا ہے۔ ہم مرغے سے کافی مرعوب ہیں۔ ایک مرغا دس، دس مرغیوں کے ساتھ عشق لڑا سکتا ہے اور مطمئن رکھتا ہے۔ ہم نے ایک دن گنا کہ ایک دن میں مرغا کتنی دفعہ عشق کرتا ہے تو یقین کریں کہ ہماری گنتی ختم ہو گئی لیکن مرغا کا دل نہیں بھرا۔ اس کی عشق بازیاں دیکھ کر ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ہم بھی مرغا ہوتے۔ جیسے ہم نے بتایا کہ ہمارے پاس تین مرغے تھے لیکن ایک مرغا جس کا نام ہم نے شیرو رکھا ہوا تھا باقی دونوں مرغوں چھوٹو اور چٹو (سفید رنگ تھا اس لیے نام چٹو رکھا ہوا تھا) کو مرغیوں کے قریب نہیں آنے دیتا۔ شیرو کا جب جی چاہتا عشق کرتا لیکن اگر باقی دو کو وہ دیکھ لیتا کہ عشق کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کو چونچیں مار مار کر زخمی کر دیتا۔ پانچ چھے مہینے شیرو کا راج رہا۔ پھر ایک دن شیرو اور چٹو کی خون خوار لڑائی ہوئی اور چٹو جیت گیا اور شیرو ہار گیا۔ وہ دن تھا کہ شیرو کا راج ختم ہوا اور چٹو کا راج شروع ہوا۔ ہم نے غور کیا اسی غم میں شیرو کا وزن کم ہونے لگا اور وہ بیمار رہنے لگا اور شیرو کی آنکھوں میں ایسی کیفیت ہوتی تھی
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
آخر ہم نے دل برداشتہ شیرو کو اس کیفیت سے نکالا اور دیسی مرغ کی کڑاہی سے لطف اندوز ہوئے لیکن دل میں ہمارے شیرو کا غم بھی تھا۔ پھر اس واقعہ کے کوئی چھے، سات ماہ بعد چٹو اور چھوٹو کی لڑائی ہوئی اور اب فتح چھوٹو کا مقدر بنی اور چٹو کی حالت وہی تھی جو کسی زمانے میں شیرو کی تھی۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اب چٹو کڑاہی بن کر ہمارے سامنے تھا اور چھوٹو پورے گھر میں اذانیں دیتا پھرتا تھا۔ ہم نے جو سبق اس سے سیکھا ہے کہ مرغیاں چاہے آپ کے پاس جتنی ہوں لیکن مرغا صرف ایک ہونا چاہیے۔
مرغیوں اور چوزوں کو دوسرے جانوروں سے بچانا بڑا مشکل ہے۔ جب چوزے ہوتے ہیں تو ان کو بلی کھا جاتی ہے یا پھر چیل آ کر آپ کے ایک دو چوزے اٹھا کر جاتی ہے۔ ایک دفعہ چیل نے ہمارے چوزوں پر جھپٹا مارا اور ہماری آنکھوں کے سامنے دو چوزے اٹھا لے گئی۔ ایک چوزہ اس کے پنجوں سے چھوٹ کر نیچے گر گیا لیکن وہ زندہ نہ بچا۔ اس طرح ہمیں یاد ہے کہ ایک دن ہم صبح اٹھے تو ایک مرغی کے صرف پر پائے۔ کوئی اس کو کھا گیا تھا۔ ہم نے سوچا بلی کی شرارت ہو گی لیکن بلی بڑا پرندہ نہیں کھا سکتی۔
اگلے دن ایک اور مرغی غائب تھی۔ تیسرے دن رات کو گھر کے پچھلے صحن میں کافی شور تھا تو میری نیند کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ تین آوارہ کتے ہماری کالی جو کہ اصیل مرغی تھی اس کا شکار کر رہے تھے۔ کالی بہت جان دار مرغی تھی، مضبوط اور طاقت ور۔ یہی وجہ تھی کہ وہ تین کتوں کے حملوں میں بھی بچ گئی۔ جب ہم نے کتوں کو گھر سے نکالا اور اس کو اٹھایا تو اس کا دل بڑی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے کہ ابھی باہر آ جائے گا لیکن صاحب داد ہے ”کالی“ کو جو زندہ بچ گئی۔ بعد میں ہم نے اس کو ملازم کو دے دیا اور وہاں بھی تین سال زندہ رہی۔
مرغے رات تین بجے ہی اذانیں دینے لگ جاتے ہیں اور غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بقول زوجہ کے مرغوں کا مقصد ہوتا ہے کہ ہم سو نہ پائیں اس لیے وہ اذانیں دیتے رہتے ہیں کیوں کہ نیند بھی تو ایک غفلت ہی ہے۔ اگر ایک مرغا اذان دیتا ہے تو اس کے جواب میں دوسرا مرغا دو اذانیں دیتا ہے اور ایسا مقابلہ شروع ہوتا ہے کہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اور آپ کے کانوں میں ککڑوں کڑوں ککڑوں کڑوں ہوتا رہتا ہے۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
جب ہم نے مرغیاں پالیں تو سارا دن کانوں میں یہی آوازیں گونجتی رہتیں۔ اگر کسی دن مرغے کی ککڑوں کڑوں نہ آتی تو ہمیں شک گزرتا کہ شاید مرغ بیمار ہو گئے ہیں۔ ایک دن ایک صاحب ہمیں ملنے آئے جن کو ہم نہیں جانتے تھے۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا ہے آپ مرغوں کی لڑائی کے شوقین ہیں اس لیے گھر میں تین تین مرغے پال رکھے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ ہم پر گھڑوں پانی گر گیا کہ ان مرغوں نے ہماری خوب شہرت کی ہے کہ اور اب ہمیں لوگوں نے مرغ باز سمجھ لیا ہے۔
مرغیوں کی کئی اقسام ہیں مثلاً اصیل مرغی، یہ صرف آٹھ دس انڈے دیتی ہے۔ اس کے بعد کڑک ہو جاتی ہے۔ دیسی مرغی کہ کوئی پچیس تیس انڈے دیتی ہے اور پھر کڑک ہو جاتی ہے اور پھر ہے مصری مرغی۔ یہ انڈے دیتی رہتی ہے اور کڑک نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو کبھی مرغیاں انڈوں کے لیے پالنے کا شوق چڑھے تو مصری مرغی پالیں۔ بس جب مرغی انڈا دے لے گی تو پورا گھر سر پر اٹھا لے گی کٹ کٹ کٹاک، کٹ کٹ کٹاک جیسے کہ اس نے کوئی معرکہ فتح کر لیا ہو۔ اگر آپ نے چوزے نکالنے ہیں تو اصیل مرغی پالیں۔ بیگم صاحبہ نے بھی کئی دفعہ چوزے نکلوائے ہیں۔ چوزے نکل بھی آئیں زندہ کم ہی رہتے ہیں، بڑے نازک مزاج ہوتے ہیں اور فوراً مرنے کی کرتے ہیں۔
مرغیوں میں بیماریاں بھی کافی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی بیماری ان پر حملہ کرتی ہے، وہ مرنا شروع کر دیتی ہیں۔ بیماری میں مرغی اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے، سست ہو جاتی ہے اور کھڑے کھڑے سوتی رہتی ہے۔ جیسے کچھ انسان ساری عمر آنکھیں کھولے سوتے رہتے ہیں۔ ہم نے لگ بھگ دو سال مرغیاں رکھیں اور اس سے توبہ کر لی کہ آئندہ ایسا شوق کبھی نہ پالیں گے اور ہماری بیگم تو جہاں مرغی کی آواز بھی سنتی ہیں تو وضو کر کے فوراً اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا شروع کر دیتی ہیں۔













