تحریر: طاہر مقصود

تجزیہ
ظاہری طور پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ باغ کے الیکشن ہوں، چیرمین کرکٹ بورڈ کی تعیناتی ہو یا بجٹ کے معاملات ہوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف نظر آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ اگلا وزیراعظم پیپلز پارٹی سے ہو، تاہم یہ کڑوا گھونٹ ن لیگ کے لئے بھرنا مشکل لگ رہا ہے۔ ن لیگ یہ کڑوا گھونٹ تب ہی بھرے گی اگر پنجاب کی حکومت ن لیگ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا جائے ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی بنیادی طور پر فطری اتحادی نہیں ہیں۔ انکے اتحاد کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کا اتنا مضبوط ہونا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ علیحدہ ہو کر تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔ یہ اتحاد ن لیگ کے لیے ذیادہ اہم ہے کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ میں تو حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے تاہم ن لیگ کی پنجاب میں حکومت سازی کا سارا انحصار تحریک انصاف پر جزوی یا مکمل پابندی پر ہی ہو گا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نظریاتی جماعتیں نہیں ہیں اس لیے تو موجودہ حکومت میں اتحادی ہیں حالانکہ قبل ازیں دونوں سیاسی جماعتیں مخاصمت پر مبنی سیاست کر چکی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک تحریک انصاف مضبوط رہے گی ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ اکٹھی رہیں گی۔ اگر تحریک انصاف کمزور ہو جائیگی تو دونوں جماعتیں مخاصمانہ سیاست شروع کر دیں گی۔ تاہم آنیوالے عام انتخابات میں حلقہ جاتی صورت حال بالکل غیر واضح ہے۔ بنیادی طور پر وفاقی اور پنجاب حکومت کی تشکیل ہی اصل چیلنج ہے۔ پاکستان میں صرف تحریک انصاف اس پوزیشن میں ہے کہ وفاقی حکومت تشکیل دے سکے۔ پیپلز پارٹی یا ن لیگ اس پوزیشن میں نہیں کہ تنہا وفاقی حکومت بنا سکیں۔ بلکہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور باقی ساری جماعتیں ملکر ہی تحریک انصاف کو شکست دے سکتی ہیں مگر ایسا ہونا معمولی انتخابی حالات میں آسان نہیں۔ اس لیے ن لیگ یا پیپلز پارٹی نے اپنا وزیر اعظم لانا ہے تو انکو اتحاد برقرار رکھنا ہو گا۔
پاکستان میں مستند وفاقی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ پنجاب میں بھی اسکی حکومت ہو کیونکہ پنجاب اور وفاقی حکومت میں مخاصمت گورننس کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ سندھ اور کے پی کے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف (بالترتیب) کی حکومت سازی کے واضح امکانات ہیں۔ بلوچستان اپنی سیاسی روایات برقرار رکھے گا۔ پنجاب میں اگر الیکشن شفاف ہوں اور تحریک انصاف کو اپنی پوری طاقت سے لڑنے کا موقع ملے تو تحریک انصاف پنجاب میں کلین سویپ کریگی۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی قابل انتخاب کے بغیر ایک سیٹ بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ ن لیگ کا ووٹ بینک اتنا نہیں رہا کہ پنجاب میں وہ اکثریتی حلقے حاصل کر سکے۔ اس لیے پنجاب کی حد تک بھی پیپلز پارٹی ، استحکام پاکستان پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور قابل انتخاب کو تحریک انصاف کو ہرانے کے لیے ملکر الیکشن لڑنا ہو گا۔ مزید برآں پنجاب کی حد تک ن لیگ ، استحکام پاکستان پارٹی اور پیپلز پارٹی یہ افورڈ ہی نہیں کر سکتے کہ وہ سیاسی اتحاد کے بغیر تحریک انصاف کا مقابلہ کر سکیں۔ پنجاب میں مقابلہ تحریک انصاف بمقابل آل پارٹیز ون ٹو ون ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ن لیگ کی پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے یہ سیاسی مجبوری ہو گی کہ وہ پیپلز پارٹی ، قابل انتخاب اور استحکام پاکستان پارٹی سے سیاسی اتحاد ہر صورت برقرار رکھے۔

آخر میں وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے آنیوالے عام انتخابات تحریک انصاف کے علاؤہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے لئے بھی مشکل ترین ہونگے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ یہ افورڈ ہی نہیں کر سکتیں کہ وہ سیاسی اتحاد ختم کریں۔ عوامی سپورٹ کے لیے تو شاید وہ مخالفانہ پوزیشن لیں مگر حقیقت میں دونوں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہی دونوں کی بقا کا ضامن ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد صرف تحریک انصاف کے انتہائی کمزور ہونے کی صورت میں ٹوٹنا ممکن ہے، اس لیے دونوں سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے تمام سیاسی و غیر سیاسی اقدامات جاری رکھیں گی اور یہاں تک کہ خیبرپختونخواہ میں بھی تحریک انصاف کو روکنے کے لئے جمعیت علمائے اسلام ف اور باقی سیاسی جماعتوں کا اتحاد برقرار رہے گا۔













