
تحریر: ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی
کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں۔
کسی زمانے میں خواتین بچوں کو فیڈر سے بچاتی تھیں اور کتابیں اُن کے سینے سے لگاتی تھیں۔ بچے فیڈر سے بچ جاتے تھے، ریڈر بن جاتے تھے اور بعض تو لیڈر بھی اچھے ثابت ہوتے تھے۔مائیں بچوں کو اپنے دودھ کی قسم دے کر پڑھنے کا حکم دیتی تھیں اور اولاد حکم کی پاسداری کرتے ہوئے عمر کتاب بینی میں گزار دیتی تھی۔ جدید دور میں بچہ جو پہلی چیز اپنے ہاتھ میں پکڑتا ہے، وہ فیڈر ہوتا ہے۔ بعض لوگ عمر بھر کتاب کے لمس سے محروم رہتے ہیں۔جدید دور کی ایک ماں نے اپنے بہت ماڈرن بیٹے کو جذباتی ہو کر کہا کہ”وہ اپنے بابا کا حکم نہیں مانے گا تو وہ اسے اپنا دودھ نہیں بخشیں گی“۔ بیٹا لہک لہک کر گانے لگا ”کیوں حکم مانوں میں ابے کا، عمر بھر پیا ہے دودھ میں نے ڈبے کا“ بعد میں وہی بچہ اپنے علاقے کا بہت بڑا لیڈر بنا۔
کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ہاں لیڈر بھی بہت تھے اور ریڈر بھی۔ کتاب پڑھنا ضروری سمجھا جاتاتھا۔ لیڈربھی ریڈر ہوتے تھے۔ دفاتر میں ریڈر اور علاقوں میں واپڈا کے فیڈر کم تھے اورعلم کا نورزیادہ تھا۔ لیڈر کتابیں پڑھتے بھی تھے اور کتابیں لکھتے بھی تھے۔ آج تک اُن پر کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ اگرمعاشرے میں کتابوں کے ریڈر ہوں تو لیڈر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں بچوں کے فیڈر اور واپڈا کے فیڈر کی مانگ تو بہت ہے مگر ریڈر بننے کا شوق زوال پذیر ہے۔ کتابیں گھروں سے غائب ہوتی جارہی ہیں۔ جرائد اور رسائل بھی اب ہمارے ہاں نظر نہیں آتے۔ کتاب گھر بند ہوتے جارہے ہیں۔ ہوٹل کھلتے جارہے ہیں۔ اب اگر کوئی آدمی کہے کہ میں ریڈر ہوں تو مخاطب سمجھ جاتا ہے کہ صاحب کسی دفتر میں یا عدالت میں ملازم ہیں۔ کوئی شک نہیں کرتا کہ صاحب پڑھنے پڑھانے میں دلچسپی لیتے ہوں گے اور کتابوں کے ریڈر ہیں۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
لیڈر اور واپڈاکا فیڈربعض اوقات توقعات پر پورے نہیں اُترتے مگر کتاب اپنے ریڈر کو کبھی مایوس نہیں کرتی۔ہمارے ہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور لیڈروں کی کمی ایک عرصے سے محسوس کی جارہی تھی اب ریڈروں کی کمی بھی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ بہت سارے افسران بھی یہ شکوہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ اُن کے ریڈر قابل نہیں ہیں۔ ریڈربھی افسروں کی بابت یہی شکوہ کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ لیڈر،ریڈراور فیڈرکی بابت بحرانی کیفیت کا شکار ہوچکا ہے اور یہ بحران دن بدن بڑھتا جارہاہے۔
ایک دانشورنظریہ ارتقاکے ماہر تھے۔ ایک دن کسی نے اُن سے پوچھا اگر انسان بندر سے بنا ہے تو اب بندر انسان کیوں نہیں بن رہے۔ دانشور نے انتہائی دانشورانہ لہجے میں دانش سے بھرپور جواب دیا ”اب وہ خوراکیں نہیں رہیں“۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب لکھاری پہلے جیسے نہیں ہیں تو قاری بھی پہلے جیسے نہیں ہیں۔ اچھے لکھاری اوراچھے قاری کی بحث ایسی ہی ہے کہ”انڈہ پہلے تھا یا مرغی“۔ کہتے ہیں کہ انقلاب روس کے بعد کتابوں کی اشاعت کی بابت بھی ایک انقلاب آگیا۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ فرانس کے انقلاب کے پیچھے بھی چند کتابیں تھیں۔ نپولین نے کہا تھا ”آپ مجھے قارئین کا خاندان دکھائیں اور میں آپ کو ایسے لوگ دکھاؤں گا جو دنیا تبدیل کرسکتے ہیں۔ جو لوگ مطالعہ کتب کرتے ہیں وہی ذہنی طور پر اس قدر طاقت ور ہوتے ہیں کہ دنیا کی بھاگ دوڑ سنبھال سکیں“۔ امریکی ناول نگار جورج مارٹن کہتے ہیں ”جو شخص کتابیں پڑھتا ہے وہ ہزاروں زندگیاں جیتا ہے۔ جبکہ نہ پڑھنے والا شخص صرف ایک زندگی جیتاہے“۔ امریکی مصنف رے بریڈبیوری کا نظریہ ہے ”کسی ثقافت کو ختم کرنے کیلئے آپ کو کتابیں جلانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کتاب پڑھنے والوں کو کتاب پڑھنے سے روک دیں“۔کوفے کے مشہور مصنف ”جاحظ“ کتب فروشوں کی دوکانیں کرایے پر لے کر ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ ممتاز فلسفی ابن رشد اپنی پوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مطالعہ نہ کرسکے۔ دونوں دفعہ وجہ کسی قریبی عزیز کی وفات تھی۔ عباسی دور کے وزیر فتح بن خاقان اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے۔ جب انہیں سرکاری کاموں سے تھوڑی سی بھی فرصت ملتی، کتاب نکال کر پڑھنے لگتے۔ امام فخرالدین راضی ہر وقت مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ اُن کو اس بات کاافسوس رہتا تھا کہ کھانے کا وقت مطالعے کے بغیر گذر جاتا ہے۔ امام محمد ساری ساری رات مطالعے میں منہمک رہتے۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کتب بینی کے بہت شوقین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے محبوب ترین پیغمبرﷺ کو اپنی محبوب ترین کتاب کا معجزہ عطا فرمایا۔ قرآن پاک کا ایک نام”الکتاب“ بھی ہے۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں عالمی معیار کے لیڈر پیدا ہوں تو ہمیں عالمی معیار کے ریڈرپیدا کرنے ہوں گے۔ کتابیں انسانی دانش کا ذخیرہ ہوتی ہیں۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کتب بینی کو فروغ دینا ہوگا۔ گھروں میں کتابیں پڑھنے کے کلچر کو عام کرنا ہوگا۔ اپنی آنے والی نسل کے دل میں کتاب کی محبت راسخ کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین ریڈر بنائے اوربہترین لیڈر عنایت فرمائیں۔ آمین۔













