Premium Content

دہشت گردی اور خیبرپختونخواہ پولیس

Print Friendly, PDF & Email

مصنف: طاہر مقصود

مصنف پنجاب پولیس سے ریٹائرڈ ایس ایس پی ہیں۔

پولیس لائنز، پولیس والوں کا گھر ہوتا ہے پشاور میں پولیس لائنز کی اہمیت قدرے زیادہ اس لیے ہے کہ یہاں پر پولیس کے دیگر دفاتر بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں پولیس لائن پشاور کی مسجد میں نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران شدید دھماکہ ہوا جس سے مسجد کی چھت گر گئی اور ایک سو سے زائد نمازی شہید ہوگئے اور ڈیڑھ سو سے زائد شدید زخمی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش بمبار نے کیا تھا۔

               خیبرپختونخواہ پولیس بہادروں کی جماعت ہے جو گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے براہ راست دہشت گردی سے نبردآزما ہے، اس دوران وطن پاکستان کے باسیوں کی حفاظت کے لیے سپاہی سے لے کر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس تک کے افسران نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ پاکستان میں 1990ء کی دہائی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی نے سراٹھایا تو پاکستان پولیس نے پوری طاقت سے اس دہشت گردی کا جواب دیا۔ اس دوران بہت سے پولیس افسران کو دہشت گردوں نے شہید بھی کیا مگر ہر افسر کی شہادت کے ساتھ ساتھ پولیس افسران کے جذبہ میں اضافہ ہوتا گیا اور آخر کار پولیس کی شبانہ روز محنت کی بدولت فرقہ وارانہ دہشت کا عفریت اپنی موت آپ مرگیا، اور اس وقت ملک مذہبی یا فرقہ وارانہ دہشت گردی سے تقریباً پاک ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/dahshat-gardi-main-azafy-ny-khatry-ki-ghanti/

               دوہزار ایک افغانستان پر امریکی حملہ کے بعد دہشت گردی کی نئی صورت سامنے آئی اس کی وجوہات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے جو یہاں میرا موضوع بحث نہ ہے۔ ملک کی اندرونی سیکورٹی کی ذمہ داری براہ راست پولیس پر ہے اپنی یہ پاکیزہ ذمہ داری نبھانے کے لیے پولیس کے بہادر جوان میدان میں آئے تو دہشت گردوں نے براہ راست پولیس افسران کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔

               دوہزار نو میں پولیس ٹریننگ سنٹر مناواں لاہور پردو دفعہ حملہ کیا گیا۔ ایف آئی اے صوبائی ہیڈکواٹر لاہور پر حملہ ہوا۔ ان حملوں میں درجنوں پولیس افسران شہید ہوئے۔ جولائی 2012ء میں خیبرپختونخواہ جیل پولیس کے زیر تربیت جوان جو لاہور میں ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے پر دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں متعدد لوگ شہید ہوگئے۔ اکتوبر2016ء میں کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج پر حملے میں پانچ درجن سے زائد زیر تربیت پولیس افسران وطن عزیز پر قربان ہوگئے۔ اس کے علاوہ بہت سے پولیس افسران ملک کے مختلف حصوں میں ناکہ بندی پوائنٹس پر دہشت گردی کا نشانہ بنے لیکن ان تمام واقعات سے پولیس کے جذبہ حب الوطنی میں کوئی کمی نہ آئی ہے۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/qoumi-idarun-ki-report-k-mutabiq-ctd-kyberpakhtunkhawa-dehshat/

               پولیس کے خلاف دہشت گردی کی موجودہ لہر میں گزشتہ ایک ماہ سے تیزی آگئی ہے۔ اس دوران ڈیرہ اسماعیل خان تھانہ پر حملہ ہوا، پشاور میں ایک ڈی ایس پی رینک کا افسر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ میانوالی کے ایک تھانہ پر حملہ کو ناکام بنایا گیا، خبروں کے مطابق اس حملہ میں راکٹ اور رائفل کا استعمال کیا گیا جو کہ شائد پہلی دفعہ ہوا ہے۔ ان حالیہ واقعات سے یہ بات عیاں ہے کہ دہشت گرد پولیس کے حلقوں میں خوف و ہراس کا ماحوال پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی مذموم کاروائیاں آزادانہ طور پر کرسکیں جس میں یقیناً وہ ناکام ہونگے۔ (انشاء اللہ)

               پشاور واقع کے بعد خیبرپختونخواہ پولیس کے افسران نے تقریباً تمام صوبہ میں احتجاج کیا اور باقاعدہ احتجاجی جلوس نکالا جس میں عجیب و غریب نعرے سنے گئے۔ مثلاً ”یہ جو نامعلوم ہے ہمیں سب معلوم ہے“ یہ اشارہ کس طرف ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا لیکن یہ اچنبھے کی بات ضرور ہے۔ اس احتجاج سے ناراض ہونے کی بجائے ضروری ہے کہ پولیس کی لیڈر شپ، خفیہ اداروں کے ذمہ داران اور سیاسی راہنما ایک جگہ بٹھیں پولیس کے جوانوں سے بات کریں تاکہ انہیں حوصلہ ہو۔ جیسے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب فوری طور پر مکڑوال تھانہ میں گئے اور تھانہ پرحملہ ناکام بنانے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/mianwali-k-thany-makarwal-par-dehshat-gardun/

               پشاور مسجد دھماکہ کے بعد افغانستان کے وزیر کا بیان بھی قابل غور ہے کہ افغانستان پر الزام لگانے کی بجائے اپنے گھر کو بھی دیکھا جائے ماضی میں گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی تفتیش سے یہ واضح ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں اگر غیر ملکی ہاتھ ثابت بھی ہوا تو اس کے سہولت کار مقامی افراد ہی تھے۔

               پاکستان میں اس وقت حالات غیر معمولی ہیں اور ایسے وقت میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2014ء میں پشاور میں ہی واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد پاکستان کے سیاسی راہنماؤں اور سیکورٹی کے ذمہ دار اداروں نے مل کر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا۔ اس پلان پر عمل کرنے سے گرفتار دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ملی تھیں اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آئے تھے۔ پاکستان کا عدالتی نظام موجودہ غیر معمولی حالات سے مطابقت نہ رکھتا ہے کیونکہ سزاکی صورت میں بھی مجرمان کے پاس اپیلوں کی شکل میں مقدمات کو لٹکانے کے مواقع ہوتے ہیں ماضی میں فوجی عدالتوں کا تجربہ کافی کامیاب رہا تھا۔

دہشت گردی کے تانے بانے نہ صرف پاکستان کے مختلف علاقوں تک پھیلے ہوتے ہیں بلکہ بیرون ملک سے بھی ان کو کنٹرول کیا جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ”نیکٹا“ کو فعال کیا جائے۔ اس سے یقیناً تمام ملک کی صوبائی پولیس کے درمیان رابطے میں اضافہ ہوگا اور دہشت گردی کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos