پاکستان کا پاور سیکٹر شدید بحران کا شکار، فوری حل مشکل

[post-views]
[post-views]

ارشد محمود اعوان

پاکستان کا پاور سیکٹر پچھلے تقریباً دو سال سے اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بحالی کا جو تاثر کبھی ابھرا تھا وہ اب شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے دس ماہ میں مجموعی بجلی کی پیداوار 99 ارب کلو واٹ آور رہی، جو مالی سال 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد کم ہے۔ یہ کمی معمولی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو اپنی طلب اور رسد کے توازن کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

صورتحال اپریل میں مزید خراب ہوئی، جب منصوبہ بندی کے مطابق 10.6 ارب یونٹس کے مقابلے میں صرف 9.4 ارب یونٹس بجلی پیدا ہو سکی۔ یعنی تقریباً 11 فیصد کمی، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی منفی انحراف سمجھی جا رہی ہے۔ یہ کمی اچانک نہیں آئی، مگر اس کی شدت نے پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نظام پہلے ہی مالی سال 2021 کی سطح سے کم پر چل رہا تھا اور پچھلے سال کے مقابلے میں بھی معمولی بہتری دکھا رہا تھا۔ ایسے میں یہ رجحان تشویشناک ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ملک نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور صنعت کو دوبارہ گرڈ پر لانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

اپریل میں اس بحران کی فوری وجہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں شدید رکاوٹ بنی۔ قطر کی جانب سے فورس میجور کے اعلان کے بعد پاکستان کو مسلسل دوسرے مہینے آر ایل این جی کی مناسب مقدار دستیاب نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔ پاور مکس میں آر ایل این جی کا حصہ 18 فیصد کے منصوبہ بند ہدف کے مقابلے میں صرف 4 فیصد رہ گیا۔ اپریل میں اس سے صرف 380 ملین یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو گزشتہ 111 مہینوں میں سب سے کم سطح ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ 380 ملین یونٹس وہ گیس استعمال کر کے حاصل نہیں کیے گئے جو درآمد کی جاتی ہے، بلکہ گھریلو قدرتی گیس کو آر ایل این جی پاور پلانٹس کی طرف موڑ دیا گیا۔ اسے صرف اس لیے آر ایل این جی کے کھاتے میں ڈالا گیا کیونکہ اس کی قیمت بندی اسی نظام سے ملتی جلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے جدید اور زیادہ مؤثر تھرمل پاور پلانٹس اب ایسے ایندھن پر چل رہے ہیں جس کے لیے وہ بنیادی طور پر ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے۔ یہ عدم مطابقت وقت کے ساتھ مزید مسائل پیدا کرے گی۔

آر ایل این جی کی کمی اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 12 فیصد کمی کے باعث نظام کو متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنا پڑی۔ نتیجتاً درآمدی کوئلہ اور فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس نے اپنی طے شدہ پیداوار سے تقریباً 1.1 ارب یونٹس زیادہ بجلی پیدا کی تاکہ نظام مکمل طور پر نہ گرے۔ تاہم اس کا مالی بوجھ بڑھ گیا اور فی یونٹ فیول چارجز میں تقریباً 1.7 روپے کا اضافہ ہوا، جو مسلسل پانچویں ماہ مثبت ایڈجسٹمنٹ کا باعث بنا۔ یہ مسئلہ صرف مہنگے ایندھن کا نہیں بلکہ نظام کی غیر لچکداری کا بھی ہے، جہاں مناسب ایندھن مناسب پلانٹ میں دستیاب نہیں۔

اس بحران کی ایک گہری ساختی وجہ بھی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی بجلی کی طلب کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ چھتوں پر سولر سسٹمز اور آف گرڈ توانائی کے بڑھنے سے دن کے اوقات میں قومی گرڈ پر طلب نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ دوپہر کے وقت بجلی کی کھپت تیزی سے گر جاتی ہے، لیکن شام کے وقت اچانک بڑھ جاتی ہے جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور تمام صارفین گرڈ پر واپس آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال “ڈک کَرْو” کہلاتی ہے۔

عام حالات میں شام کے اس اچانک اضافے کو پورا کرنے کے لیے آر ایل این جی پلانٹس سب سے مؤثر ذریعہ تھے کیونکہ وہ تیزی سے پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن اب جب یہ گیس دستیاب نہیں، تو یہ بوجھ ایسے پلانٹس پر آ گیا ہے جو نہ تو اتنی تیزی سے ردعمل دے سکتے ہیں اور نہ ہی کم لاگت پر چل سکتے ہیں۔ یہ عدم توازن فوری طور پر حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔

متبادل ذرائع بھی محدود ہیں۔ مقامی گیس، چاہے مکمل طور پر استعمال کی جائے، بھی آر ایل این جی کی کمی پوری نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی پیداواری صلاحیت تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ اس لیے شام کے وقت جب طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے، نظام کے پاس خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی مؤثر آپشن موجود نہیں رہتا۔

اس صورتحال کے دو ممکنہ نتائج ہیں، اور دونوں ہی مشکل ہیں۔ ایک طرف مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھتا رہے گا جس سے بجلی کے نرخ مزید بڑھیں گے اور آخرکار اس کا بوجھ صارفین اور صنعتیں برداشت کریں گی۔ دوسری طرف اگر ایندھن کی کمی برقرار رہی تو شام کے اوقات میں لوڈشیڈنگ دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ عملی طور پر امکان یہی ہے کہ دونوں صورتیں بیک وقت سامنے آئیں گی۔

عالمی سطح پر امریکا اور اسرائیل کے تنازع کے باعث ایل این جی سپلائی میں خلل نے پاکستان کی توانائی کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان نے خود پیدا نہیں کی، لیکن اس کے اثرات اب ملک کے پاور سیکٹر میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

ٹیرف میں کمی یا صنعتی مراعات صارفین کو وقتی طور پر گرڈ کی طرف واپس لا سکتی ہیں، لیکن وہ گیس پیدا نہیں کر سکتیں جو دستیاب ہی نہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے جس کا سامنا پاکستان کے توانائی منصوبہ سازوں کو ہے، اور اس کا کوئی آسان حل فی الحال موجود نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]