فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ مغربی غزہ شہر میں واقع النصر چلڈرن ہسپتال جمعہ کو اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غیر فعال ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی کمی کے باعث ایک بچے کی المناک موت واقع ہو گئی۔
ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہسپتال کو دو بار نشانہ بنایا گیا۔
ڈائریکٹر نے ایک پریس ریلیز میں کہاکہ ایک حملے میں ہسپتال کے گیٹ کو نشانہ بنایا گیا اور دوسرےحملے میں ہسپتال کے شعبہ جات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں ہسپتال کو بہت نقصان پہنچا ہے اور مریضوں کو آکسیجن نہیں مل رہی جس کے نتیجے میں ایک بچے کی موت ہو گئی ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
ہسپتال کےڈائریکٹر نے مزید کہا کہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زندگی کو برقرار رکھنے والے آلات کو بجلی کی فراہمی بھی منقطع کر دی گئی تھی جس میں کئی بچے بھی تھے۔
فلسطینی ڈاکٹر نے بتایا کہ سڑک پر موجود ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ڈائریکٹر نے ریڈ کراس اور بین الاقوامی اداروں سے النصر چلڈرن ہسپتال کے عملے اور مریضوں کو بچانے کے لیے فوری مدد کی اپیل کی۔
محصور غزہ کی پٹی کے تقریباً تمام ہسپتال گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں اور فضائی حملوں کی زد میں آئے، جن میں الشفاء بھی شامل ہے، جس میں اسی عرصے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے کم از کم چار راؤنڈ دیکھے گئے۔








