امریکہ نے دنیا بھر میں ویزا پابندیوں کی ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کا ہدف وہ افراد ہوں گے جو سائبر جرائم، سائبر ذرائع سے ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں، آن لائن دھوکا دہی اور جنسی بلیک میلنگ جیسے جرائم میں ملوث ہوں یا ان کی معاونت کرتے ہوں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ نئی پالیسی ایسے غیر ملکی افراد پر لاگو ہوگی جو ڈیجیٹل ذرائع سے مالی فراڈ، شناخت کی چوری، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیموں، جنسی بلیک میلنگ، تاوان کی غرض سے کمپیوٹر نظام کو یرغمال بنانے، اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث ہیں یا ان سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندیاں نہ صرف براہِ راست مجرموں بلکہ ان افراد پر بھی لاگو ہو سکتی ہیں جو ان نیٹ ورکس کی معاونت کرتے ہیں یا ان سے مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ امریکی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی شہریوں اور عالمی برادری کو آن لائن جرائم سے محفوظ بنانا اور مجرم عناصر کا احتساب یقینی بنانا ہے۔
محکمۂ خارجہ نے کہا کہ سائبر جرائم اور آن لائن دھوکا دہی کے نیٹ ورکس ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے مجرمانہ نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔









