بجلی چوری اور لائن لاسز کی روک تھام کے لیے تمام تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہ

[post-views]
[post-views]

آڈٹ کے ذریعے بجلی چوری کے اسباب اور زیادہ نقصانات والے علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی، صارفین پر نااہلی کا بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے جامع تکنیکی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی چوری، ترسیلی و تقسیمی نقصانات اور انتظامی نااہلی کی حقیقی نوعیت اور اسباب معلوم کیے جا سکیں۔

اس اقدام کا مقصد زیادہ نقصانات والے علاقوں کی نشاندہی، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری اور صارفین کو اضافی بلوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز میں نااہلی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے قائم کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کی۔

آڈٹ میں بجلی چوری اور نقصانات کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیا جائے گا

اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام، بلوں کی وصولیوں میں بہتری اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

پاور ڈویژن، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں نے کمیٹی کو بجلی چوری، نقصانات، وصولیوں اور توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈسکوز کا تکنیکی آڈٹ کیا جائے گا، جس میں بجلی چوری کی شرح، تکنیکی و تجارتی نقصانات کے اسباب اور ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں یہ مسائل زیادہ سنگین ہیں۔

آڈٹ کے نتائج کی بنیاد پر نقصانات کم کرنے اور تقسیم کار نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کیے جائیں گے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تکنیکی معاونت کی ذمہ داری

کمیٹی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو ہدایت کی کہ وہ شفاف اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار کے تحت تکنیکی آڈٹ میں معاونت فراہم کرے۔

اس مقصد کے لیے اہل تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے جلد اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی جائیں گی۔

کمیٹی نے آڈٹ کے لیے شرائطِ کار آئندہ ہفتے تک حتمی شکل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

سینیٹر احد چیمہ نے زور دیا کہ آڈٹ محض نقصانات کی نشاندہی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ بجلی چوری اور تقسیم کار نظام کی خرابیوں کے بنیادی اسباب کا جامع تجزیہ بھی پیش کرے۔

ان کے مطابق حکومت کو ایسے قابلِ اعتماد نتائج درکار ہیں جن کی بنیاد پر عملی اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

صارفین پر ڈسکوز کی نااہلی کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، احد چیمہ

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ بجلی چوری، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور ناقص انتظامی کارکردگی کی مالی قیمت صارفین سے وصول نہیں کی جا سکتی۔

احد چیمہ نے کہا کہ حکومت بجلی چوری کم کرنے پر پوری توجہ دے رہی ہے اور تقسیم کار نظام کی نااہلی کا بوجھ کسی صورت عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے زائد بلنگ کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی آڈٹ حکومت کو بجلی چوری اور نقصانات کے خلاف شواہد پر مبنی اقدامات کرنے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

بجلی چوری سے متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن کمیٹی کے مقاصد کے مطابق بجلی چوری اور نقصانات پر قابو پانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان تقسیم کار کمپنیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے۔

اجلاس میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں ترغیبات پر مبنی شمسی توانائی کے آزمائشی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ان منصوبوں کا مقصد شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کے موجودہ نظام پر دباؤ کم کرنا اور چوری و لائن لاسز کے مستقل مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ڈیجیٹل نگرانی اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار پر زور

کمیٹی نے بجلی کے تقسیم کار نظام میں متعارف کرائے جانے والے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

اجلاس میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی، نگرانی بہتر بنانے اور جواب دہی مضبوط کرنے کے لیے ڈیجیٹل وسائل اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔

دونوں وفاقی وزرا نے زائد بلنگ کی روک تھام میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کیا، تاہم واضح کیا کہ کسی بھی تقسیم کار کمپنی کو بجلی چوری، نقصانات یا انتظامی خامیاں چھپانے کے لیے صارفین کو اضافی بل بھیجنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بلوں کی وصولیوں میں بہتری برقرار رکھنے کی ہدایت

کمیٹی نے ڈسکوز کی وصولیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور رواں سال اس سلسلے میں ہونے والی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے مشترکہ سربراہان نے زور دیا کہ بہتر انتظام، مؤثر نگرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات اور زیادہ نقصانات والے علاقوں میں مخصوص کارروائیوں کے ذریعے اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے۔

حکومت کے مطابق جامع تکنیکی آڈٹ سے بجلی کے تقسیم کار نظام کی خامیوں کی واضح تصویر سامنے آئے گی، جس کی بنیاد پر بجلی چوری، مالی نقصانات اور صارفین کے تحفظ سے متعلق آئندہ فیصلے کیے جا سکیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]