واشنگٹن / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے کسی نئے فوجی حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ پورے خطے میں پھیل سکتا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ میں آئندہ حکمتِ عملی کے تعین پر غور کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ برطانیہ نے ریاض کو محدود فوجی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
نئے امریکی حملوں کی صورت میں ایران کا وسیع جوابی کارروائی کا انتباہ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اتوار کو خبردار کیا کہ امریکہ کے کسی نئے حملے کی صورت میں تہران غیر واضح نوعیت کے نئے ہتھیار استعمال کرے گا اور جنگ کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع کر دے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن فوجی اور سفارتی سطح پر اپنے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے رہا تھا۔
اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابھی فیصلہ کر رہے ہیں کہ آگے کس طرح بڑھنا ہے۔
انہوں نے ممکنہ اقدامات میں مزید فوجی کارروائیوں، معاشی دباؤ برقرار رکھنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی کا ذکر کیا۔
امریکی صدر نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اتوار کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے سعودی حمایت یافتہ اتحاد اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے پیشِ نظر سکیورٹی ہدایات جاری کیں۔
امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور خطے میں مزید کشیدگی کے باعث سفری سرگرمیوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
برطانیہ کا سعودی عرب کو محدود فوجی معاونت فراہم کرنے کا اعلان
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پیر کو اعلان کیا کہ برطانیہ حوثی تحریک کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کو محدود فوجی معاونت فراہم کرے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ برطانوی فضائیہ سعودی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرے گی۔
یہ انتظام کئی ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے مطابق اس فیصلے کا مقصد برطانیہ اور خطے کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب سعودی عرب پر حملوں کے باعث توانائی کی فراہمی اور اہم نقل و حمل کے راستوں میں مزید خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
برطانوی حکومت حوثیوں کے حملوں کی مذمت کر چکی ہے اور اس نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر استحکام، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی رسائی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
حوثیوں کے حملوں سے بحیرۂ احمر میں بحری تجارت کے لیے خطرات بڑھ گئے
سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جنگ میں عارضی وقفہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ محاذ آرائی شروع ہوئی ہے۔
حوثی فورسز نے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ان میں ہفتے کو ریاض کو نشانہ بنانے والا ایک حملہ بھی شامل تھا، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
حوثی تحریک نے آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے سعودی بحری جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں اور مملکت کے اندر تیل کی تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل سعودی عرب کی توانائی کی برآمدات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں حوثی فورسز نے یمن کے اندر پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کے حامل بندرگاہی شہر مخا اور بحیرۂ احمر کے اہم جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔
ان علاقوں پر قبضے سے حوثیوں کی آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
عام حالات میں عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد حصہ اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواستوں کے بعد صدر ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کا حکم دینے پر غور کیا تھا۔
تاہم سی بی ایس نیوز کی سابقہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ہفتے کی رات حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
حوثی رہنما کا سعودی فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ
ایک الگ پیش رفت میں حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے پیر کو نشر ہونے والی اپنی ریکارڈ شدہ تقریر میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ تقریر یمن کی حکومت پر حوثی تحریک کے قبضے کی سالگرہ کے موقع پر نشر کی گئی۔
عبدالملک الحوثی نے سعودی فوجی کارروائیاں بند کرنے اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ان مطالبات کو یمنی عوام کے حقوق قرار دیا۔
حوثی تحریک نے ستمبر 2014 میں اپنے شمالی مضبوط گڑھ سے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔
2015 میں سعودی عرب نے اس حکومت کی بحالی کے لیے ایک کثیرالملکی فوجی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی جنگ میں مداخلت کی۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ حملوں نے ایک مرتبہ پھر ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یمن کا تنازع وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا۔









