اگر امریکہ بھی پاسداری کرے تو ایران اسلام آباد معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے: ایرانی صدر

[post-views]
[post-views]

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں طے پانے والے اسلام آباد معاہدے کی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے اب بھی تیار ہے، بشرطیکہ امریکہ بھی اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرے۔

صدر پزشکیان نے ان خیالات کا اظہار قرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے حاشیے پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے اس یادداشت کی تیاری میں پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے “دوست اور برادر” پاکستانی حکومت کی کوششوں سے حاصل ہونے والے تصفیے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے اپنے معاہدے کی پاسداری پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ماننا ہے کہ تمام خطے میں امن اور سیکیورٹی قائم ہونی چاہیے اور مذہب، مسلک یا قومیت سے قطع نظر لوگوں کو جنگ و جدل کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔

مسعود پزشکیان نے مکہ معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ ایران طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مسلم ممالک کا ایک متحد اور ہم آہنگ بلاک اسرائیل کو اسلامی ریاستوں پر آسانی سے حملہ کرنے سے روکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے اندرونی تنازعات کو بات چیت اور تعاون کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ اقدامات کو مسلم دنیا میں اتحاد کی جانب ایک بہترین قدم قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر علاقائی اور اسلامی ممالک بھی بالآخر اس عمل کا حصہ بنیں گے اور دفاع کے علاوہ سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان کی خلوص اور ایمانداری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران ان کے اندر ان اوصاف کو باقاعدہ محسوس کیا ہے اور وہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے گفتگو سے انتہائی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط اور مشاورت میں اضافے کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

حالیہ علاقائی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ جاری بحران اور بدامنی نے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد علاقائی امن اور سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے خطے کی ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

شہباز شریف نے ایران کے لیے عالمی سطح پر عوامی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں اکثریت کا یہی ماننا ہے کہ ایران کا موقف درست ہے، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت اور معاہدوں کے ذریعے بالآخر خطے میں امن اور سیکیورٹی بحال ہو جائے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]