موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں پاکستان کے پانچ شہر دنیا کے کم ترین مزاحم شہروں میں شامل

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے پانچ شہر موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کے 10 کم ترین مزاحم بڑے شہروں میں شامل ہوگئے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سامنے ملک کی بڑھتی ہوئی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

جغرافیائی تجزیاتی کمپنی الفا جیو کی نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں کم ترین مزاحم شہروں میں شامل ہیں۔ تحقیق میں دنیا کے 72 بڑے شہروں کو موسمیاتی خطرات سے ان کے براہ راست سامنا اور ان خطرات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر جانچا گیا۔

درجہ بندی میں حیدرآباد دنیا کا دوسرا کم ترین مزاحم شہر قرار پایا، جبکہ ملتان تیسرے، لاہور پانچویں، فیصل آباد ساتویں اور کراچی آٹھویں نمبر پر رہا۔ بھارت کا احمد آباد فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی خطرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چھ بڑے شہر جنوبی ایشیا میں واقع ہیں، جن میں احمد آباد، حیدرآباد، ملتان، ڈھاکا، کولکتہ اور لاہور شامل ہیں۔ ان شہروں کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ شدید گرمی کو قرار دیا گیا، جبکہ خطرات کی شدت کے مقابلے میں ان کی موافقتی صلاحیت اب بھی ناکافی ہے۔

احمد آباد اور حیدرآباد کا خطرے سے مطابقت کے بعد اسکور 41 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملتان کا 38، ڈھاکا کا 36 اور کولکتہ اور لاہور کا اسکور 35، 35 رہا۔

جائزے میں ڈھاکا کو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ براہ راست متاثر شہر قرار دیا گیا، جس کا طبعی خطرے کا اسکور 60 رہا۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت میں خطرات سے مطابقت کے لیے قابل ذکر اقدامات کے باوجود باقی ماندہ موسمیاتی خطرہ دنیا کے بڑے شہروں میں اب بھی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ موسمیاتی خطرات کی بلند سطح جائیدادوں کی قدر، بنیادی ڈھانچے کی پائیداری اور معاشی سرگرمیوں پر سنگین اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ایسے ممالک، جہاں بڑے شہر شدید خطرات سے دوچار ہیں لیکن ان سے مطابقت کی صلاحیت ناکافی ہے، مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور آبادی کی نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو خصوصی توجہ کے مستحق ممالک قرار دیا گیا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے بڑے شہروں کو بلند موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، جبکہ ان خطرات کی بڑھتی ہوئی شدت کے مطابق موافقتی صلاحیت بہتر بنانے کی رفتار محدود ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]