بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ایلون مسک کا پیغام: ’سواری کا لطف اٹھائیں‘، جبکہ مصنوعی ذہانت کے خطرات پر خدشات بڑھنے لگے

[post-views]
[post-views]

مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی اور خود اس شعبے کے ماہرین کی جانب سے جدید ماڈلز کے انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کے خدشات کے باوجود، ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بہترین رویہ یہی ہے کہ “اس سفر کا لطف اٹھائیں۔”

اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے دی اکنامسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ انہیں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات پر اب بھی تشویش ہے، تاہم ان کے خیال میں “سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پوری انسانیت کے لیے بے مثال خوشحالی لے کر آئے گی۔”

مسک نے کہا کہ برسوں تک مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے خطرہ سمجھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے مثبت پہلو پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول، ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ “اگر میں اسے روکنا بھی چاہوں تو اب ایسا نہیں کر سکتا۔”

یہ انٹرویو ایک روز قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، جب اوپن اے آئی نے انکشاف کیا کہ اس کے چند جدید ترین AI ماڈلز نے ایک سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران انسانی نگرانی سے نکل کر ایک اسٹارٹ اپ کے سسٹمز میں ہیکنگ کر لی تھی، جس کے بعد مصنوعی ذہانت کے انسانی اقدار سے ہٹنے کے خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کی تیاری کرنے والی اوپن اے آئی اپنی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

“تمام راستے AI کی تیز رفتار ترقی کی طرف جاتے ہیں”

دی اکنامسٹ کی مدیر اعلیٰ زینی منٹن بیڈوز نے ایلون مسک سے مصنوعی ذہانت کے تحفظ، یورپی سیاست میں ان کی مداخلت اور اوپن اے آئی و اینتھروپک جیسے حریف اداروں سے متعلق سوالات کیے۔

مسک نے کہا کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “تمام راستے مصنوعی ذہانت کی مزید تیز رفتار ترقی کی طرف جاتے ہیں۔” ان کے مطابق، “آپ یا تو اس پر افسوس کرتے رہیں یا پھر اس سفر کا حصہ بن جائیں۔”

انہوں نے ایک اور جرات مندانہ پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دس برسوں میں “پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔”

سیاست اور نسل پرستی سے متعلق سوالات

مسک نے خود کو انتہائی دائیں بازو کے نظریات کا حامل قرار دینے کے تاثر کو مسترد کیا۔ زینی منٹن بیڈوز نے کہا کہ برطانیہ میں رائے عامہ اور ان کے ذاتی مشاہدات مسک کی سوشل میڈیا پوسٹس سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

جب مسک نے انہیں برطانیہ کا ذاتی دورہ کرانے کی پیشکش کی تو انہوں نے جواب دیا، “آپ میرے اس ملک میں آ کر دیکھیں جہاں میں ہر وقت رہتی ہوں۔” اس پر جب مسک سے پوچھا گیا کہ وہ خود آخری بار برطانیہ کب گئے تھے، تو انہوں نے جواب دیا، “چند سال پہلے۔”

مسک سے ایک ایسی فلم شیئر کرنے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جس پر جرمنی میں مبینہ طور پر تشدد اور تارکینِ وطن مخالف مواد کے باعث پابندی عائد ہے۔

جواب میں مسک نے اپنی خاندانی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شریکِ حیات شیون زیلس آدھی بھارتی ہیں اور ان کے چار بچے ہیں، جن میں سے ایک کا نام ایک معروف بھارتی طبیعیات دان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “اس لیے میں خود کو نسل پرست نہیں سمجھتا۔” ان کے مطابق ان کی کمپنیوں میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیدار کام کرتے ہیں اور ان کے اداروں میں نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں۔

جب ان سے مسلمانوں کے بارے میں ان کے خیالات پوچھے گئے تو انہوں نے نسبتاً محتاط انداز میں کہا، “اگر لوگ کسی ایسے نظریے کے ساتھ کسی ملک میں آتے ہیں جو وہاں کی اقدار سے متصادم ہو، تو میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ قتل، زیادتی اور مغربی معاشروں کی بنیادی اقدار سے متصادم قوانین کے نفاذ کے خلاف ہیں اور ان کے مطابق میڈیا اکثر ان کے مؤقف کو درست انداز میں پیش نہیں کرتا۔

“مقبول آدمی”

ایلون مسک نے تسلیم کیا کہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کا ایک طبقہ ان سے شدید نفرت کرتا ہے۔ مختلف سرویز، خصوصاً یوگوو کے جائزوں کے مطابق، امریکہ اور برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کے بارے میں منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم جب زینی منٹن بیڈوز نے ان کے تقریباً 25 کروڑ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) فالوورز کا ذکر کیا تو مسک نے مختصر جواب دیا، “مقبول آدمی۔”

بعد ازاں انہوں نے کہا، “ہو سکتا ہے کچھ لوگ واقعی مجھ سے نفرت کرتے ہوں، اور شاید یہ درست بھی ہو، مگر مجھے اس کی پروا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً پچیس کروڑ لوگ مجھے فالو کرتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی تعداد نفرت کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]