برطانوی پارلیمان میں ماحولیاتی قیادت پر چیتھم ہاؤس کی ڈائریکٹر کا بیان

[post-views]
[post-views]

چیتھم ہاؤس کے ماحولیات اور معاشرہ مرکز کی ڈائریکٹر آنا یانگ نے آٹھ جولائی کو برطانوی پارلیمان کی توانائی، توانائی کے تحفظ اور خالص صفر اخراج کمیٹی کے سامنے گواہی دی۔ یہ اجلاس اس تحقیقاتی سلسلے کا حصہ تھا جس میں موسمیاتی اقدامات کے میدان میں برطانیہ کی ترجیحات اور عالمی قیادت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے دوسرے اجلاس میں آنا یانگ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ مالی، معاشی اور سیاسی مشکلات کے باوجود برطانیہ عالمی سطح پر موسمیاتی قیادت کو کس طرح مضبوط بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 کے پیرس معاہدے کے بعد عالمی سیاسی ماحول میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے اور اب موسمیاتی اقدامات بڑی طاقتوں کی رقابتوں سے گہرا تعلق اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی، موسمیاتی کانفرنسوں کے عمل سے امریکہ کی دوری اور ایران سے جاری تنازع نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے آنا یانگ نے کہا کہ دنیا تیزی سے تیل پیدا کرنے والی ریاستوں اور برقی توانائی پر انحصار کرنے والی ریاستوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے، جس سے موسمیاتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک اور سالانہ موسمیاتی کانفرنسیں اہداف مقرر کرنے اور سمت متعین کرنے میں تو کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن اصل چیلنج ان اہداف پر عمل درآمد ہے۔

انہوں نے کہا، “عمل درآمد کو قومی مفادات سے جوڑنا ضروری ہے۔ اسے خوش حالی سے وابستہ ہونا چاہیے، اور اسے قومی سلامتی کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہونا چاہیے۔”

برطانیہ کی داخلی پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آنا یانگ نے کہا کہ ملک کے پاس موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں دوبارہ صنعتی ترقی کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ ان کے مطابق، “برطانیہ کی دوبارہ صنعتی ترقی کی کہانی کہاں ہے؟ یہ ایک ایسا خلا ہے جو ابھی تک پُر نہیں ہو سکا۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا برطانیہ صاف توانائی کی جانب منتقلی کو بنیاد بنا کر نئی ماحول دوست صنعتی پالیسیوں کے ذریعے اپنی معیشت کو ازسرِنو تشکیل دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ایسا کوئی جامع وژن موجود نہیں جو عوام کو امید دے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور موسمیاتی پالیسی کو عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے اس انداز میں جوڑے کہ اس کی گونج صرف حکومتی ایوانوں تک محدود نہ رہے بلکہ پورا معاشرہ اس سے خود کو وابستہ محسوس کرے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]