دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مسلح تنازعات کی روک تھام کے لیے مسلسل سفارتی روابط، باہمی اعتماد اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی سیاسی کشیدگی علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
پیر کے روز دوحہ میں عالمی سلامتی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل مذاکرات، سیاسی تحمل اور ممالک کے درمیان اختلافات کو فوجی تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ خواہش ضروری ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ محاذ آرائی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعے نے مشرق وسطیٰ سے باہر بھی سلامتی کے سنگین خطرات پیدا کیے ہیں، جن کے بین الاقوامی امن اور استحکام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
محسن نقوی نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سفارتی کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ ان کے روابط اور مسلسل سفارتی سرگرمیوں نے مذاکرات کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ براہِ راست رابطے بھی کیے گئے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لیے اپنی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تہران کے دورے کیے اور اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
مسلسل سفارتی کوششوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ امن کسی ایک ملاقات یا عارضی سیاسی انتظام کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تنازعات کے کامیاب حل کے لیے مستقل مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات اور مخالف فریقوں کے درمیان مسلسل روابط ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو کی اور واضح کیا کہ اس سہ فریقی معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ فوجی محاذ آرائی کو فروغ دینا۔
انہوں نے معاہدے کو دفاعی سلامتی کا ایک مشترکہ نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مقاصد کو ایسے فوجی انتظامات سے الگ سمجھنا چاہیے جو مسلح تنازعات شروع کرنے یا انہیں وسعت دینے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں علاقائی دفاعی اتحادوں اور سلامتی کے شعبے میں تعاون پر ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے شدت پسندانہ تشدد کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہریوں، فوجی اہلکاروں اور پولیس افسران نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جو انتہا پسندانہ تشدد کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیر داخلہ نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے انفرادی قومی اقدامات کے بجائے مربوط اور اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے حکومتوں کے درمیان مضبوط تعاون، خفیہ معلومات کے مؤثر تبادلے اور انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سرحدوں سے ماورا خطرات کا مقابلہ بین الاقوامی اشتراک کے بغیر ممکن نہیں۔
محسن نقوی نے اقوام متحدہ کی امن مشنوں میں پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانی اہلکاروں نے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں شہری آبادی کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن مشنوں میں پاکستان کی شرکت اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اس کے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر داخلہ نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی سلامتی کو درپیش مسائل محض فوجی اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق سفارتی روابط، ادارہ جاتی تعاون اور ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ کاری عالمی امن و استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر محسن نقوی نے مذاکرات کے فروغ، امن اقدامات کی حمایت اور تنازعات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے ان کے خطاب میں تنازعات کو جنم لینے سے پہلے روکنے والی سفارت کاری کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ ان کے بیانات سے اسلام آباد کا یہ مؤقف نمایاں ہوا کہ موجودہ عالمی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل سیاسی روابط، باہمی اعتماد اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔









