پاور ڈویژن نے بجلی صارفین کو اضافی بلوں، غیر ضروری مشکلات اور زائد مالی بوجھ سے بچانے کے لیے پاکستان کے ڈیٹیکشن بلنگ نظام میں اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اصلاحات وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی سربراہی میں بجلی کے شعبے میں جاری وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ مضبوط بنانا ہے۔
روایتی طور پر ڈیٹیکشن بل اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب بجلی کا میٹر خراب ہوجائے، اس میں تکنیکی نقص پیدا ہوجائے یا وہ بجلی کے حقیقی استعمال کو درست طریقے سے ریکارڈ نہ کرسکے۔ ایسی صورت میں متعلقہ قواعد کے مطابق بجلی کی کھپت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔
تاہم بعض اوقات تخمینہ شدہ کھپت اور بجلی کے حقیقی استعمال میں فرق کے باعث صارفین کو اضافی بلوں اور طویل شکایتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ نظام میں انسانی مداخلت بھی کافی زیادہ ہے، جس سے شفافیت اور ممکنہ بے ضابطگیوں سے متعلق خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لیے پاور ڈویژن نے ڈیٹیکشن بلنگ کے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بلنگ کے نظام میں انسانی مداخلت کم کرنا اور صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنا ہے۔
تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری ترامیم تجویز کریں اور نئے نظام کے نفاذ کے لیے درکار دیگر اقدامات بھی کریں۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت ڈیٹیکشن بلوں اور ان کی وصولی کی ہر ماہ نگرانی کی جائے گی۔ اس کا مقصد زائد بلنگ اور غیر معمولی بلنگ کے رجحانات کی بروقت نشاندہی کرنا ہے تاکہ غیر ضروری تاخیر کے بغیر اصلاحی اقدامات کیے جاسکیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں حکومت کی جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹیکشن بلنگ نظام میں اصلاحات سے صارفین کے حقوق کے تحفظ، بجلی کے بلوں میں شفافیت بہتر بنانے اور بجلی کے شعبے پر عوامی اعتماد مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق بلنگ کے عمل کو زیادہ ڈیجیٹل اور خودکار بنانے سے انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوں گے اور پورے نظام میں ڈیٹیکشن بلنگ کے قواعد کو زیادہ یکساں انداز میں نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔








