بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پٹرولیم ڈیلرز کا ۱۵ اگست سے ملک بھر میں پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان

[post-views]
[post-views]

پاکستان میں پٹرولیم ڈیلرز نے منگل کے روز ۱۵ اگست سے ملک بھر میں پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان ملک بھر میں مال بردار ٹرانسپورٹروں کی پہیہ جام ہڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ اعلان حکومت اور مال بردار ٹرانسپورٹروں کے درمیان مذاکرات میں کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا گیا۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹروں کی جاری ہڑتال برقرار رہے گی۔ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے باوجود تعطل برقرار ہے اور ٹرانسپورٹروں کے مطالبات پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے ڈیلرز کے اجلاس کے بعد پٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کو ۷۲ گھنٹے کی مہلت دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ڈیلرز کے لیے پٹرول پمپس چلانا ممکن نہیں رہے گا۔

ڈیلرز نے پٹرول کی فروخت پر ۸ فیصد منافع مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک خدا بخش نے کہا کہ ’’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے‘‘ اور ایسوسی ایشن کو اپنے ۱۴ ہزار ارکان کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطالبات منظور ہونے تک پٹرول پمپس بند رہیں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو مسئلے کے حل کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا، جس کی مدت اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ایسوسی ایشن نے حکومت کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ اسے تمام ارکان کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے اخلاقی بنیادوں پر ۱۵ روز قبل ہڑتال مؤخر کر دی تھی کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کرے گی۔‘‘

۲۲ جولائی کو آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی تھی۔ یہ فیصلہ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کے ساتھ بظاہر کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیا تھا، جنہوں نے ڈیلرز کو یقین دلایا تھا کہ ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات حل کیے جائیں گے۔

ایسوسی ایشن نے وزارتِ پٹرولیم سے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقۂ کار پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈیلرز کو اس امر پر تشویش تھی کہ حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پہلے طے پانے والے فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔

۷ اگست کو پٹرولیم کے وزیر کو ارسال کیے گئے خط میں ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]