پہلی بار دو چینی ماہرینِ ریاضی نے ’’ریاضی کا نوبیل انعام‘‘ اپنے نام کر لیا، چین میں خوشی کی لہر

[post-views]
[post-views]

پہلی مرتبہ دو چینی شہریوں نے فیلڈز میڈل حاصل کر لیا ہے، جسے ریاضی کا سب سے باوقار اعزاز اور غیر رسمی طور پر ’’ریاضی کا نوبیل انعام‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کامیابی کو چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

وانگ ہونگ اور ڈینگ یو کو جمعرات کے روز اس اعزاز کے چار فاتحین میں شامل کیا گیا۔ یہ تمغہ بین الاقوامی اتحادِ ریاضی ہر چار سال بعد چالیس برس سے کم عمر ایسے ماہرینِ ریاضی کو دیتا ہے جنہوں نے غیر معمولی علمی خدمات انجام دی ہوں۔ اس سال کے دیگر دو فاتحین کا تعلق کینیڈا اور امریکہ سے ہے۔ پینتیس سالہ وانگ ہونگ اس اعزاز کی نوّے سالہ تاریخ میں صرف تیسری خاتون ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا ہے۔

اس کامیابی کی خبر کے بعد چین کے سماجی ذرائع ابلاغ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ جمعہ کی صبح ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں سرفہرست دونوں موضوعات اسی کامیابی سے متعلق تھے۔ سرکاری اور نجی ذرائع ابلاغ نے بھی وانگ ہونگ اور ڈینگ یو کی کامیابی کو نمایاں انداز میں پیش کیا، اگرچہ دونوں نے بیجنگ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی علمی زندگی بیرونِ ملک جاری رکھی۔

ایک مقبول تبصرے میں اسے ’’چینی ریاضی کے لیے تاریخی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے چین کو ریاضی کی عالمی قوت بنانے کا دیرینہ خواب پورا ہوا ہے۔ کئی مبصرین نے وانگ ہونگ کی کامیابی کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں خواتین کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ایک تبصرہ نگار نے لکھا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ’’منہ توڑ جواب‘‘ ہے جو طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ لڑکے ریاضی میں لڑکیوں سے بہتر ہوتے ہیں۔

وانگ ہونگ، جن کا تعلق جنوبی چین کے شہر گوئی لِن سے ہے، اس وقت نیویارک یونیورسٹی اور فرانس کے اعلیٰ سائنسی مطالعاتی ادارے سے وابستہ ہیں۔ انہیں ہم آہنگی تجزیے اور ہندسی پیمائشی نظریے میں کئی دہائیوں سے حل طلب ایک پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔

سینتیس سالہ ڈینگ یو، جو شین ژین میں پیدا ہوئے اور اس وقت شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کو جزوی تفرقی مساوات کے میدان میں نمایاں تحقیقی خدمات پر یہ اعزاز دیا گیا۔

چین میں اس کامیابی پر فخر کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہاں علمی کامیابیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے، جہاں ممتاز سائنس دان عوامی شخصیات کا درجہ رکھتے ہیں اور طلبہ دنیا کے مشکل ترین جامعاتی داخلہ امتحانات میں سخت مقابلے سے گزرتے ہیں۔

یہ کامیابی چین کی اس طویل المدتی حکمتِ عملی کی بھی علامت ہے جس کے تحت وہ عملی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بنیادی نظریاتی سائنس میں بھی عالمی قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے حکومت برسوں سے تحقیق، اعلیٰ تعلیم اور باصلاحیت افراد کی سرپرستی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، جبکہ چینی قیادت اسے قومی احیاء کے وسیع تر وژن کا حصہ قرار دیتی ہے۔

ایک سرکاری تبصرے میں کہا گیا کہ مغربی علمی حلقوں میں طویل عرصے سے یہ تاثر موجود تھا کہ چین مسابقتی اور اطلاقی ریاضی میں تو مضبوط ہے، لیکن جدید نظریاتی ریاضی میں بنیادی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکا۔ تبصرے کے مطابق وانگ ہونگ اور ڈینگ یو کی کامیابی نے اس خلا کو پُر کرتے ہوئے چینی ریاضی کے لیے ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ چینی شہریت رکھنے والے دو افراد نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس سے قبل شنگ تُنگ یاؤ نے 1982ء میں یہ تمغہ جیتا تھا، مگر اس وقت وہ چینی شہری نہیں تھے، جبکہ آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے چینی نژاد ٹیرنس تاؤ کو یہ اعزاز 2006ء میں ملا تھا۔

اب سنگھوا یونیورسٹی میں پروفیسر شنگ تُنگ یاؤ نے کہا کہ یہ کامیابی چینی ماہرینِ ریاضی کے کئی دہائیوں پرانے خواب کی تعبیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وانگ ہونگ اور ڈینگ یو مستقبل میں چین واپس آ کر تدریسی خدمات انجام دیں گے تاکہ ملک میں ریاضی کی نئی نسل کی تربیت ہو سکے۔ انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ آئندہ ایسے ماہرینِ ریاضی بھی یہ اعزاز حاصل کریں جو مکمل طور پر چین ہی میں تعلیم و تربیت حاصل کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]