بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

خلیجی پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملے، تین پاکستانیوں سمیت چھ افراد ہلاک

[post-views]
[post-views]

منگل کے روز بحیرۂ احمر اور خلیجِ عمان میں تین مختلف بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ان حملوں سے دنیا کی اہم ترین توانائی کی تجارتی گزرگاہ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

یمن کے ساحلی محافظوں کے مطابق حوثی حملوں کا نشانہ بننے والے ایک مال بردار جہاز تہامہ پر حملے کے نتیجے میں چار ملاح اور جہاز کو خالی کرانے کے لیے بھیجے گئے دو امدادی اہلکار ہلاک ہوئے۔

ساحلی محافظوں کے ایک بیان کے مطابق تنزانیہ کے پرچم بردار جہاز پر ہونے والے پہلے حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ حملے میں عملے کے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری بھی شامل تھے۔

بیان کے مطابق جب امدادی کارکن جہاز کو خالی کرانے کی کارروائی میں مصروف تھے تو دوسرا حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں امدادی کارروائی میں شریک اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دونوں حملوں میں مجموعی طور پر ۱۰ افراد زخمی بھی ہوئے۔

ایک الگ واقعے میں منگل کی رات یمنی خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ حوثی جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک سعودی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔ تاہم سعودی عرب نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔

بعد ازاں حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی مسلح افواج نے باب المندب میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی فوجی سازوسامان لے جا رہا تھا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت سے متعلق بھی پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ حملے گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بحیرۂ احمر کے داخلی راستے اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر ہونے والے مہلک حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں۔

امریکی افواج کا پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملہ

ایک الگ واقعے میں سمندری سلامتی سے متعلق ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار بحری جہاز ویلا نووا کو پاکستان کے قریب میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جب وہ خلیجِ عمان میں داخل ہو رہا تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک امریکی ہیلی کاپٹر نے جہاز پر حملہ کیا اور اس کے سمت نما حصے کو ہیل فائر میزائل سے نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب جہاز نے خطے میں ایران سے منسلک بحری نقل و حمل کے خلاف امریکی ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں امریکی مرکزی کمان نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز کے انجن کے حصے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، کیونکہ اس نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔

امریکی مرکزی کمان کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے ویلا نووا کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا، کیونکہ جہاز کے شہری عملے نے امریکی افواج کی جانب سے دی جانے والی متعدد تنبیہات کو نظر انداز کیا تھا۔

یہ جہاز اس امریکی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد امریکی افواج کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والا بارہواں بحری جہاز ہے، جبکہ ۱۴ جولائی کو ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ تیسرا جہاز ہے جسے نشانہ بنایا گیا۔

ایران سے متعلق بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے سینئر مشیر چارلی براؤن نے کہا کہ جہاز نے حال ہی میں ممبئی اور ملائیشیا کی بندرگاہ کلانگ کا دورہ کیا تھا، جہاں ایران سے منسلک بحری جہاز بھی دیکھے گئے ہیں۔

ان کے مطابق خلیجِ عمان میں ناکہ بندی کی حد کے قریب پاناما کے پرچم بردار ویلا نووا کو مبینہ طور پر امریکی افواج کی جانب سے ناکارہ بنا کر روکنا، اور اس سے قبل اس کا ممبئی کی بندرگاہ پر قیام، ایران سے متعلق بحری نقل و حمل پر بڑھتی ہوئی نگرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]