ارشد محمود اعوان
جنگیں ہمیشہ طاقت کی حقیقت کو جلد ظاہر کر دیتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف یہ سمجھ کر بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی کہ شدید بمباری سے ایرانی حکومت جلد کمزور ہو جائے گی اور عوام حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ جنگ کے چھٹے دن صورتحال یہ بتا رہی ہے کہ منصوبہ توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکا اور اب نئی حکمت عملی تلاش کی جا رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ایران کے کرد اقلیتی گروہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں ایسا پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں کرد گروہوں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، مگر بعد میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔ عراق اور ترکی کے کرد گروہوں کو بھی اسی طرح کے تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایران نے اس حکمت عملی کو پہلے ہی سمجھ لیا تھا۔ اسی لیے ایران نے شمالی عراق میں موجود کرد جنگجو گروہوں پر حملے کیے تاکہ کسی ممکنہ اندرونی خطرے کو پہلے ہی ختم کیا جا سکے۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ وہ سرحدوں پر کسی بھی خطرے کے ظاہر ہونے کا انتظار نہیں کرے گا۔
امریکہ کی ممکنہ حکمت عملی یہ تھی کہ ایران کی کرد، عرب اور آذری اقلیتوں میں اختلافات کو بڑھایا جائے تاکہ ملک کے اندر سیاسی اور سکیورٹی دباؤ پیدا ہو۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتی گروہوں کو صرف غصے کی بنیاد پر ایک بڑی فوجی قوت نہیں بنایا جا سکتا۔ ایران نے کئی دہائیوں سے اپنی داخلی سکیورٹی کو مضبوط رکھا ہے اور مختلف گروہوں کو کسی حد تک ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
اس جنگ کے اثرات خطے کے دوسرے ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات پر حملے ہو رہے ہیں اور توانائی کی ترسیل کے راستے متاثر ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔
ایران کے اندر حکومت مخالف جذبات موجود ہونے کے باوجود بیرونی حملے کے بعد عوامی سطح پر اتحاد کا رجحان زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی دباؤ اکثر اندرونی اختلافات کو کم کر دیتا ہے۔
اگر جنگ طویل ہوئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ چھ دن کی جنگ ہی بتا رہی ہے کہ صورتحال پہلے سے طے شدہ منصوبے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ مستقبل کا راستہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے گی یا نہیں۔









